ملک میں بڑھتے سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے حکومت کے تازہ فیصلے نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ محکمۂ ٹیلی کمیونی کیشن (DoT) نے حال ہی میں موبائل فون بنانے والی کمپنیوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ بھارت میں فروخت ہونے والے تمام نئے اسمارٹ فونز میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ کو لازمی طور پر پہلے سے انسٹال کریں۔ آرڈر جاری ہوتے ہی سیاسی جماعتوں اور ڈیجیٹل رائٹس گروپوں نے اس فیصلے کی سخت مخالفت شروع کر دی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شہریوں کی پرائیویسی اور شخصی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمان اور اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکم آہستہ آہستہ مطلق العنانیت کی سمت بڑھتا قدم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا “کیا حکومت یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ لوگوں کے فون میں کیا ہے؟ کیا یہ شمالی کوریا جیسی نگرانی کی پالیسی نافذ کرنے کی کوشش ہے؟”
اسی طرح عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی اس فیصلے کو شہری حقوق پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جمہوری ملک میں حکومت کی جانب سے شہریوں کی اجازت کے بغیر کسی ایپ کو لازمی طور پر فون میں انسٹال کرانا ناقابل قبول ہے۔ عام آدمی پارٹی نے اسے ’’آمریت پسند فیصلہ‘‘ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب حکومت کی طرف سے ابھی تک اس حکم پر کوئی مفصل ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ البتہ ٹیلی کمیونی کیشن کے وزیر جیوترادتیہ سندھیا نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ ’سنچار ساتھی‘ ایپ سائبر سیکیورٹی اور موبائل چوری کی روک تھام میں مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اب تک اس پلیٹ فارم کی مدد سے 26 لاکھ موبائل فون کا پتہ لگایا جا چکا ہے جبکہ 7.23 لاکھ مشتبہ موبائل نمبرز بلاک کیے گئے ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ ایپ صارفین کو فراڈ، موبائل بد استعمالی اور ڈیجیٹل جرائم سے بچانے کے لیے تیار کی گئی ہے اور یہ ڈیجیٹل سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ تاہم اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ کیا صارفین کو اس ایپ کو فون سے حذف کرنے کا اختیار دیا جائے گا یا نہیں۔
ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فون شہریوں کی نجی ملکیت ہے اور کسی سرکاری ایپ کو لازمی قرار دینا مستقبل میں نگرانی کے غلط استعمال کے خدشے کو بڑھاتا ہے۔
اس حکومتی حکم پر آگے کیا فیصلہ ہوتا ہے اور صنعت کار اس پر کیا ردعمل دیتے ہیں، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔ فی الوقت یہ معاملہ سیاسی اور تکنیکی دونوں سطحوں پر شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔