بہار اسمبلی انتخابات 2025 میں شکست کے بعد طویل عرصے تک سیاسی منظرنامے سے غیر حاضر رہنے والے لیڈر اپوزیشن تیجسوی یادو آج دوبارہ سرگرم دکھائی دیے۔ انہوں نے اپنی پارٹی آر جے ڈی کے پارلیمانی ارکان کے ساتھ پٹنہ میں صوبائی دفتر میں ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں پارٹی کی شکست کا تجزیہ اور آئندہ کی حکمت عملی پر بات کی گئی۔ اجلاس میں تیجسوی کی بہن میسا بھارتی، رکن ایوان بالا سنجے یادو اور کئی لوک سبھا و راج سبھا کے ارکان بھی موجود تھے۔
تاہم، تیجسوی کے اس جائزہ اجلاس پر ان کی بہن اور سابق آر جے ڈی امیدوار روہنی آچاریہ نے سوشل میڈیا پر اسے محض “نمائش” قرار دیا۔ روہنی نے کہا کہ جائزہ کرنے سے پہلے تیجسوی کو اپنے گرد بیٹھے “گدھوں” کے خلاف کارروائی کرنے کا حوصلہ دکھانا چاہیے۔
روہنی آچاریہ نے لکھا “جائزہ کا دکھاوا کرنے سے زیادہ ضروری ہے خود احتسابی کرنا اور ذمہ داری لینا۔ اپنے اردگرد قبضہ جمائے بیٹھے شناخت شدہ گدھوں کو ٹھکانے لگانے کے بعد ہی کسی بھی قسم کے جائزے کی حقیقت ثابت ہو سکتی ہے۔”
راشٹریہ جنتا دل کو اس انتخابات میں 243 رکنی اسمبلی میں صرف 25 نشستوں پر کامیابی ملی۔ پارٹی نے 144 نشستوں پر امیدوار اتارے تھے۔ یہ 2010 کے انتخابات کے بعد پارٹی کا سب سے خراب مظاہرہ سمجھا جا رہا ہے۔
انتخابات سے قبل ہی روہنی آچاریہ پارٹی میں ناخوش تھیں۔ انہوں نے انتخابی مہم تو چلائی، لیکن شکست کے بعد مسلسل بول رہی ہیں۔ 15 نومبر کو انہوں نے سیاست چھوڑنے اور خاندان سے تعلق توڑنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے لیے تیجسوی کے معاون سنجے یادو اور رمیز کو ذمہ دار ٹھہرایا۔