ہندی ادب کے ممتاز ادیب، شاعر اور ناول نگار وِنوَد کمار شکلا کا منگل، 23 دسمبر 2025 کو چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور میں انتقال ہو گیا۔ وہ 88 برس کے تھے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق انہوں نے شام 4 بج کر 58 منٹ پر ایمس، رائے پور میں آخری سانس لی۔ وہ گزشتہ کئی دنوں سے اسپتال میں زیرِ علاج تھے اور ملٹی پل آرگن انفیکشن اور آرگن فیلئر میں مبتلا تھے۔
وِنوَد کمار شکلا اپنے پیچھے اہلیہ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے انتقال سے ہندی ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
1937 میں چھتیس گڑھ کے راج ناند گاؤں ضلع میں پیدا ہونے والے وِنوَد کمار شکلا نے اپنے ادبی سفر کا آغاز 1971 میں شعری مجموعہ ‘لگ بھگ جئے ہند’ سے کیا۔ اس کے بعد انہوں نے شاعری، افسانہ اور ناول—تینوں اصناف میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔
ان کی اہم تصانیف میں ‘نوکر کی قمیص’، ‘کھلے گا تو دیکھیں گے’، ‘دیوار میں ایک کھڑکی رہتی تھی’ اور ‘ایک چُپّی جگہ’ شامل ہیں۔ ناول نوکر کی قمیص پر معروف فلم ہدایت کار منی کول نے فلم بھی بنائی تھی۔ جبکہ دیوار میں ایک کھڑکی رہتی تھی کے لیے انہیں 1999 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
وِنوَد کمار شکلا کو ان کے غیر معمولی ادبی خدمات کے اعتراف میں ملک و بیرونِ ملک سراہا گیا۔ سال 2023 میں انہیں PEN/نابوکوف ایوارڈ فار اچیومنٹ اِن انٹرنیشنل لٹریچر سے نوازا گیا۔ اسی برس انہیں 59واں گیان پیٹھ ایوارڈ بھی ملا، جس کے ساتھ وہ چھتیس گڑھ سے یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے ادیب بنے۔
بھارتیہ گیان پیٹھ نے ان کی تخلیقات کو “سادگی، حساسیت اور منفرد اسلوبِ تحریر” کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ادب عام زندگی کے باریک تجربات کو سادہ اور قابلِ فہم زبان میں پیش کرتا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندی ادب میں وِنوَد کمار شکلا کی خدمات انمول ہیں اور انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وہیں چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے نے ان کے انتقال کو ریاست اور ادبی دنیا کے لیے “ناقابلِ تلافی نقصان” قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ مرحوم ادیب کو سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری وداعی دی جائے گی۔
وِنوَد کمار شکلا کو ان کی سادہ، حساس اور انسانی نظر کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی تحریریں عام انسان کی زندگی، اس کی خاموشیوں اور چھوٹی چھوٹی کیفیات کو گہرائی سے بیان کرتی ہیں۔ ان کا جانا ہندی ادب میں ایک ایسے دور کا خاتمہ ہے، جس کی بھرپائی آسان نہیں ہوگی۔