رمضان المبارک کی آمد صرف ایک مذہبی تہوار کی نوید نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اخلاقی، روحانی اور سماجی انقلاب کی دعوت ہے۔ یہ مہینہ فرد کو اس کے رب سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ اسے اپنے خاندان، معاشرے اور ملت کے تئیں اس کی ذمہ داریوں کا بھی احساس دلاتا ہے۔ رحمت، برکت اور مغفرت کے اس موسم میں اصل کامیابی اسی کی ہے جو اس موقع کو محض رسمی عبادات تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے اپنی زندگی میں حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنائے۔
رمضان کا پہلا تقاضا مکمل روزوں کا اہتمام ہے۔ روزہ اسلام کی وہ بنیادی عبادت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ حتی الامکان تمام روزے رکھنا اور صرف اسی وقت ترک کرنا جب شریعت اجازت دے، تقویٰ کے اس معیار کو قائم کرتا ہے جو رمضان کا اصل مقصد ہے۔ روزہ انسان کو ضبطِ نفس، صبر، دیانت اور احساسِ ذمہ داری کی عملی تربیت دیتا ہے۔
اسی طرح تراویح اور تہجد کی پابندی روحانی بالیدگی کا ذریعہ ہے۔ رات کی خلوت میں رب کے حضور کھڑا ہونا انسان کے دل کو نرم، نگاہ کو پاکیزہ اور ارادوں کو مضبوط بناتا ہے۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب بندہ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کر کے نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
رمضان اور قرآن کا تعلق لازم و ملزوم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ مکمل قرآنِ مجید کو ترجمہ اور فہم کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام کریں۔ محض تلاوت کی تعداد پر اکتفا کرنا کافی نہیں؛ قرآن کی تعلیمات کو سمجھنا اور انہیں اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے کا عزم ہی اصل مقصد ہے۔ اور یہ معمول رمضان تک محدود نہ رہے بلکہ سال بھر جاری رہے۔
علمی اور فکری نشوونما بھی اس مہینے کا اہم پہلو ہے۔ مستند دینی کتب کا روزانہ مطالعہ یا معتبر علماء کی گفتگو سننا شعور کو جلا بخشتا ہے۔ اگر ہم کم از کم دس صفحات یومیہ مطالعہ کو اپنی عادت بنا لیں تو یہ ہماری فکری پختگی اور اجتماعی بصیرت میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔
رمضان ہمیں اپنی عملی زندگی پر بھی نظرِ ثانی کی دعوت دیتا ہے۔ کیریئر اور مستقبل کی منصوبہ بندی، نئی شروعات کا ارادہ اور کامیابی کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام—یہ سب ایک متوازن اسلامی زندگی کا حصہ ہیں۔ عبادت اور عمل کا یہی توازن اسلام کی اصل روح ہے۔
خاندانی رشتوں کی مضبوطی رمضان کی اہم تعلیمات میں شامل ہے۔ دلوں کی کدورتیں ختم کرنا، معافی مانگنا اور محبت و خلوص کے ساتھ تعلقات کو استوار کرنا معاشرتی استحکام کی بنیاد ہے۔ مضبوط خاندان ہی ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں۔
اسی کے ساتھ ہمیں اسیران، مظلومین اور بے قصور افراد کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا چاہیے۔ جیلوں میں قید کارکنان، داعیانِ دین، انصاف پسند افراد اور دنیا بھر کے مظلوم انسان—سب ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ ہیں۔ فلسطین سمیت جہاں کہیں ظلم ہو رہا ہے، وہاں کے متاثرین کے لیے دعا اور عملی ہمدردی ایمان کا تقاضا ہے۔
زکوٰۃ اور صدقات کی درست اور شفاف ادائیگی معاشرتی انصاف کا بنیادی ستون ہے۔ زکوٰۃ کو اس کے حقیقی مستحقین اور ایسے اداروں تک پہنچانا ضروری ہے جو اس کے اصل مقاصد پر کام کرتے ہوں، جبکہ عام ضرورت مندوں کی مدد صدقات کے ذریعے بھی جاری رہنی چاہیے۔
افطار کی دعوتوں کا اہتمام سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔ دوسروں کو افطار پر مدعو کرنا اور دعوت قبول کرنا اخوت اور باہمی تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔ گھروں اور محلوں میں افطار کی سنت کو زندہ کرنا معاشرتی وحدت کی علامت ہے۔
رمضان کا ایک اہم پیغام اجتماعی دینی جدوجہد سے وابستگی بھی ہے۔ اسلام انفرادی عبادت کے ساتھ اجتماعی نظم اور تحریک کا درس دیتا ہے۔ کسی نہ کسی اصلاحی اور تعمیری تحریک سے وابستہ رہنا معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
معاشی استحکام بھی دینی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ حلال ذرائع سے محنت کر کے باوقار زندگی گزارنا، اپنے اہلِ خانہ اور ضرورت مندوں کی کفالت کرنا اور تعلیم، دعوت، انسانی حقوق، مظلوموں کی اعانت، معاشی ترقی اور فکری جدوجہد جیسے میدانوں میں وقت اور وسائل صرف کرنا، یہی خدمتِ دین و انسانیت کی حقیقی صورت ہے۔
آخر میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اجتماعی شعور کی تشکیل میں ذمہ دار صحافت کا کردار بھی کلیدی ہے۔ ایسے میں انصاف اور سچائی پر مبنی صحافتی اداروں کے لیے دعا اور تعاون بھی ایک سماجی فریضہ ہے، تاکہ وہ دین، ملت، ملک اور انسانیت کی خدمت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
رمضان المبارک ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ عبادت کو کردار سے، روحانیت کو خدمت سے اور دعا کو عمل سے جوڑا جائے۔ اگر ہم نے اس مہینے کو سنجیدگی سے جیا تو یہی ہمارے لیے فرد کی اصلاح سے ملت کی تعمیر تک کا سفر ثابت ہو سکتا ہے۔