امارتِ شرعیہ، پھلواری شریف کے مرکزی دارالقضاء نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کی تصدیق کے بعد 19 فروری 2026، بروز جمعرات پہلا روزہ رکھا جائے گا۔
قاضیٔ شریعت مولانا محمد انظار عالم قاسمی نے بتایا کہ 29 شعبان 1447 ہجری، مطابق 18 فروری 2026 (بدھ) کی شام مرکزی دفتر پھلواری شریف میں رویتِ ہلال کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔ پٹنہ اور اس کے اطراف میں چاند نظر نہیں آیا، تاہم رانچی، لوہردگا، چترا، نوادہ، دربھنگہ، گیا اور ڈیھری آن سون سمیت مختلف مقامات سے چاند نظر آنے کی مستند اطلاعات موصول ہوئیں۔ رویتِ ہلال کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا کہ 19 فروری کو یکم رمضان ہوگا۔
اسلامی کیلنڈر قمری نظام پر مبنی ہے، اسی لیے رمضان، عید اور دیگر اسلامی مہینوں کی شروعات چاند کی رویت سے طے کی جاتی ہیں۔ اعلان کے بعد بہار، جھارکھنڈ اور اڈیشہ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں رمضان کی تیاریاں تیز ہوگئی ہیں۔ مساجد میں تراویح کا اہتمام کیا جا رہا ہے اور بازاروں میں خاصی رونق دیکھنے میں آ رہی ہے۔
اس موقع پر امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی، سجادہ نشین خانقاہِ رحمانیہ، مونگیر، نے ملک و بیرونِ ملک مسلمانوں کے نام ایک تفصیلی پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ رمضان صرف روزے کا مہینہ نہیں بلکہ خود احتسابی، کردار سازی، سماجی ذمہ داری اور روحانی بیداری کا عظیم موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جب معاشرے میں خوف، نفرت اور غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں، مسلمانوں کو صبر و تحمل، اخلاقی استقامت اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مثبت شہری کردار ادا کرنا چاہیے۔ مذہب کی پہچان شور و غوغا سے نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق، رواداری اور خدمتِ خلق سے ہونی چاہیے۔
امیرِ شریعت نے “علم کے بکھراؤ” کو امت کا ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے دینی و عصری تعلیم کے درمیان توازن پر زور دیا۔ انہوں نے قرآنِ کریم کی تلاوت کے ساتھ اس کے مفہوم کو سمجھنے کی اہمیت بیان کی اور ہر گھر کو “تلاوت مع فہم” کا مرکز بنانے کی اپیل کی۔
معاشی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بڑھتے ہوئے استہلاکی رجحان اور پیداواری کمی پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو محض صارف بننے کے بجائے قدر پیدا کرنے والی قوم بننا چاہیے—روزگار کے مواقع فراہم کرنا، ادارے قائم کرنا اور سود سے بچنے کے لیے عملی اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پریس اعلامیے میں معاشرے کے تمام طبقات، خصوصاً نوجوانوں، سے اپیل کی گئی کہ وہ نفرت انگیز تقاریر اور اجتماعی الزام تراشی سے گریز کریں۔ بیان میں نبی کریم ﷺ کی یہ تعلیم نقل کی گئی کہ “تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے لیے جو پسند کرے وہی اپنے بھائی کے لیے بھی پسند نہ کرے۔”
ادارے نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے ہو سکتا ہے، لیکن نفرت کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ بھارت کا کوئی بھی شہری اپنے مذہب کی بنیاد پر عدم تحفظ محسوس نہ کرے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر امیرِ شریعت نے کہا کہ رمضان مسلمانوں کے لیے ضبطِ نفس، نماز، فہمِ قرآن اور خدمتِ خلق کا مہینہ ہے، مگر اس کا پیغام پوری انسانیت کے لیے ہے—نیکی، رحم دلی، دیانت داری اور حسنِ سلوک۔
آخر میں ادارے نے دعا کی کہ یہ بابرکت مہینہ ملک میں امن، سلامتی، خوشحالی اور باہمی اعتماد کو مضبوط کرے۔
انصاف ٹائمس کی جانب سے بھی تمام قارئین کو رمضان المبارک کی دلی مبارکباد۔