راہل گاندھی نے بڑا الزام عائد کیا: انتخابی عمل میں ‘ووٹ چوری’ اور الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام

انصاف ٹائمس ڈیسک

کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو الیکشن کمیشن (EC) پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن حمایت یافتہ ووٹروں کے نام جان بوجھ کر حذف کیے گئے۔ ان کے دعوے کے مطابق اس عمل میں بنیادی طور پر دلت، آدیواسی، OBC اور اقلیتی کمیونٹیز کے ووٹر نشانہ بنائے گئے۔

راہل گاندھی نے کرناٹک کے الند اسمبلی حلقے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ یہاں کم از کم 6,018 ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مرکزی سافٹ ویئر کے ذریعے کیا گیا، جس میں بیرونی ریاستوں کے جعلی موبائل نمبرز اور لاگ ان استعمال کیے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس نظام کے تحت ووٹر فہرست سے نام خودکار طور پر ہٹائے جا رہے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے کی ابتدا ایک بوتھ لیول افسر (BLO) نے اپنے رشتہ دار کے ووٹ غائب ہونے پر تحقیقات کرتے ہوئے کی۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ صرف کانگریس حمایت یافتہ ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ راہل گاندھی نے اسے جمہوریت کے خلاف سازش قرار دیا۔

الیکشن کمیشن نے راہل گاندھی کے الزامات کو “غلط اور بے بنیاد” قرار دیا۔ کمیشن نے کہا کہ کوئی بھی شخص آن لائن ووٹر فہرست سے نام نہیں ہٹا سکتا۔ اگر کسی کا نام ہٹایا بھی جاتا ہے تو اسے سنوائی کا موقع دیا جاتا ہے۔ کمیشن نے یہ بھی بتایا کہ الند اسمبلی حلقے میں کچھ ناکام کوششیں ہوئی تھیں، جن کے لیے FIR درج کی گئی اور تحقیقات جاری ہیں۔

راہل گاندھی نے مہاراشٹر کے چندرپور ضلع کے راجورا اسمبلی حلقے میں بھی 6,800 سے زیادہ ووٹر نام ہٹانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس امیدوار کی ہار کا فرق ان حذف شدہ ووٹوں سے کہیں کم تھا۔ مہاراشٹر کانگریس نے معاملے میں کمیشن سے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی درخواست کی ہے۔

راکنمپا کے سربراہ شرد پوار نے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر کمیشن غیر جانبدار نہیں ہے تو ملک میں عدم اطمینان پھیل سکتا ہے۔ جبکہ بی جے پی نے راہل گاندھی کے الزامات کو “مزاحیہ” قرار دیتے ہوئے رد کر دیا۔ پارٹی نے کہا کہ کانگریس رہنما بغیر بنیاد کے الزامات لگا رہے ہیں، جو جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

یہ معاملہ اب الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ جمہوریت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور