اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ہفتے کے روز ہرِدوار میں دیو سنسکرتی یونیورسٹی کے “جھنڈا لہرانے” کے پروگرام میں متنازع بیانات دیے۔ انہوں نے ریاست میں مبینہ “لَو جہاد”، “لینڈ جہاد” اور “تھوک جہاد” کو روکنے کے لیے حکومت کی سخت پالیسیوں کا دفاع کیا۔
دھامی نے کہا کہ ان کی حکومت نے 10,000 ایکڑ سے زائد سرکاری زمینوں کو تجاوزات سے آزاد کرایا اور کئی مبینہ “غیر قانونی” مدارس کو بند کیا۔ انہوں نے مدارس کے نصاب پر کنٹرول رکھنے کی بات کی اور کہا کہ حکومت اسے “500 سال پرانی قبائلی ذہنیت والے مراکز” سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے “آپریشن کلنیمی” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہم اُن افراد اور گروہوں کے خلاف ہے جو “سناتن ثقافت” کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انڈیا ہیٹ لیب کی حالیہ سالانہ رپورٹ کے مطابق، دھامی ملک کے سب سے فعال ہیٹ سپیکرز میں شامل ہیں۔ رپورٹ میں ان کے 71 بیانات کو ہیت سپیچ کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
اتر کھنڈ حکومت نے حال ہی میں فریڈم آف ریلیجن ایکٹ میں ترامیم کی ہیں۔ ان کے تحت مبینہ “زبردستی یا دھوکہ دہی سے مذہب تبدیل کرنے” پر سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں:
عام معاملات میں 3 سے 10 سال قید
حساس گروہوں کے معاملات میں 5 سے 14 سال
سنگین معاملات میں 20 سال سے عمر قید اور بھاری جرمانہ
مخالف جماعتوں اور شہری حقوق کے گروپوں نے دھامی کی پالیسیوں اور بیانات کی شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اقلیتی کمیونٹی کے خلاف ہدف شدہ پالیسی کے طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ “لَو جہاد” کے الزامات کئی بار عدالتوں میں غلط ثابت ہوئے ہیں۔ اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ سپریم کورٹ اور دیگر آئینی ادارے مذہبی تبدیلی اور ہیت سپیچ کے معاملات میں کیا فیصلے دیتے ہیں۔