مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والی حاملہ مسلم خاتون سنالی خاتون، جنہیں مبینہ طور پر غیر قانونی تارکِ وطن قرار دے کر بنگلہ دیش دھکیل دیا گیا تھا، نے بھارت واپسی کے بعد ضلع بیربھوم کے رام پورہاٹ میڈیکل کالج میں ایک صحت مند بیٹے کو جنم دیا ہے۔ یہ ولادت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ان کے شوہر اور دو بچے اب بھی بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے ہیں۔
سنالی خاتون کا معاملہ اُس وقت قومی سطح پر زیرِ بحث آیا تھا، جب دہلی پولیس نے انہیں حراست میں لینے کے بعد دیگر افراد کے ساتھ بھارت–بنگلہ دیش سرحد پار کرا کے بنگلہ دیش بھیج دیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کی مداخلت اور ’’انسانی بنیادوں‘‘ پر مرکزی حکومت کی رضامندی کے بعد سنالی کی بھارت واپسی ممکن ہو سکی۔
اس واقعے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما اور رکنِ لوک سبھا ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ بچے کی پیدائش خوشی کا لمحہ ضرور ہے، لیکن اس پر سنالی کے ساتھ ہونے والی سنگین ناانصافی کا سایہ بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا، ’’رام پورہاٹ میڈیکل کالج میں سنالی خاتون کے صحت مند بیٹے کی پیدائش کی خبر سے مجھے دلی خوشی ہوئی ہے، تاہم جس غیر انسانی ناانصافی سے انہیں گزرنا پڑا، اس تناظر میں یہ خوشی اور بھی زیادہ معنی خیز ہو جاتی ہے۔‘‘
ابھیشیک بنرجی نے الزام عائد کیا کہ سنالی خاتون کو ’’غلط طور پر بنگلہ دیشی قرار دے کر زبردستی ملک بدر کیا گیا‘‘، جو دہلی پولیس اور مرکزی حکومت کی جانب سے اختیارات کے سنگین غلط استعمال کی مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک حاملہ خاتون کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک اس کی انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بنرجی نے سنالی کی واپسی اور بچے کی پیدائش کو ’’انسانیت کی فتح‘‘ قرار دیتے ہوئے ہفتہ کے روز رام پورہاٹ میڈیکل کالج جا کر سنالی اور نومولود سے ملاقات کرنے کا بھی اعلان کیا۔
25 سالہ سنالی خاتون 6 دسمبر کو اپنے آٹھ سالہ بیٹے کے ساتھ ضلع مالدہ کے مہدی پور بارڈر آؤٹ پوسٹ کے ذریعے بھارت واپس لوٹی تھیں۔ یہ واپسی بارڈر سکیورٹی فورس اور بنگلہ دیش بارڈر گارڈ کے درمیان ہونے والی فلیگ میٹنگ کے بعد ممکن ہو سکی۔
قابلِ ذکر ہے کہ 26 جون کو دہلی پولیس نے سنالی خاتون، ان کے شوہر دانش شیخ، ان کے بیٹے اور ضلع بیربھوم کی رہائشی سویٹی بی بی (32) اور ان کے دو بچوں کو دارالحکومت کی ایک کالونی سے حراست میں لیا تھا۔ تقریباً ایک ہفتہ حراست میں رکھنے کے بعد سبھی کو بھارت–بنگلہ دیش سرحد پار کرا دیا گیا تھا۔
مغربی بنگال حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد بھارتی شہری ہیں اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں بنگالی بولنے والے مہاجر مزدوروں کو نشانہ بنانے کی مبینہ پالیسی کے تحت انہیں غلط طور پر ملک بدر کیا گیا۔ تاہم مرکزی حکومت نے اب بھی سنالی کے شوہر دانش شیخ، سویٹی بی بی اور ان کے بچوں کی شہریت پر اعتراض برقرار رکھا ہوا ہے۔
فی الحال دانش شیخ، سویٹی بی بی اور ان کے دونوں بچے بنگلہ دیش میں ہی موجود ہیں اور ان کے مستقبل کو لے کر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
کلکتہ ریسرچ گروپ اور ’’نو یور نیبر‘‘ کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مغربی بنگال کے کم از کم 30 افراد کو من مانی طریقے سے بنگلہ دیش بھیجا گیا، جن میں سے کئی کو بعد میں ریاستی حکومت کی جانب سے دستاویزات کی تصدیق مداخلت کے بعد واپس لایا گیا۔
یہ معاملہ محض ایک خاتون کی ذاتی اذیت تک محدود نہیں، بلکہ شہریت، انسانی حقوق اور ریاستی جوابدہی سے متعلق سنگین سوالات بھی کھڑے کرتا ہے۔