جَن سوراج کے رہنما نے بہار انتخابات کی شکست کی ذمہ داری قبول کی، پرشانت کشور نے 20 نومبر کو بھوک ہڑتال کا اعلان کیا

جَن سوراج پارٹی کے مینٹر پرشانت کشور نے منگل کو پٹنہ کے پاٹلی پترا کیمپ دفتر میں ایک اہم پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پارٹی کی بہار میں اسمبلی انتخابات میں شکست کی پوری ذمہ داری ان کے کاندھوں پر ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم لوگ نظام میں تبدیلی نہیں لا سکے، اس پوری ناکامی کی ذمہ داری میری ہے۔”

پرشانت کشور نے پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں سے کہا کہ شکست کے باوجود یہ خوداحتسابی کا وقت ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ 20 نومبر کو بھتِہِروا گاندھی آشرم میں ایک روزہ بھوک ہڑتال رکھی جائے گی۔

انتخابی نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے پرشانت کشور نے کہا “ہمیں ووٹ نہیں ملے، لیکن ووٹ نہ ملنا کوئی جرم نہیں ہے۔ ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا۔” انہوں نے کہا کہ جہاں بہار میں سیاست ہمیشہ ذات اور مذہب کے گرد گھومتی ہے، وہاں جَن سوراج پارٹی نے مسائل کی سیاست کی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اب وہ سیاست چھوڑ دیں گے، تو پرشانت کشور نے کہا، “مہا بھارت میں ابھیمنیو کو گھیر کر مارا گیا، پھر بھی فتح پانڈو کی ہوئی۔ ہم بہار چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہے، تین سال کی محنت اب دگنی کریں گے۔ پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”

اس دوران انہوں نے ریاستی حکومت پر بھی سخت تنقید کی۔ پرشانت کشور نے دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت نے ہر اسمبلی حلقے میں تقریباً 60–62 ہزار خواتین کو 10–10 ہزار روپے دیے اور انتخابی وعدے کے مطابق چھ ماہ کے اندر 2 لاکھ روپے مزید دینے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 29 ہزار کروڑ روپے جیویکا دیدیوں، آشا-ممتا کارکنوں کے ذریعے تقسیم کیے گئے۔

انہوں نے وارننگ دی کہ اگر حکومت چھ ماہ میں وعدہ پورا نہیں کرتی تو وہ اس کی پوری فہرست جاری کریں گے اور 9121691216 نمبر پر لوگوں کو مدد فراہم کریں گے۔

اس پریس کانفرنس میں جَن سوراج پارٹی کے صوبائی صدر منوج بھارتی، سینئر لیڈر پروفیسر کے سی سنہا، وائی وی گری، ایم ایل سی آفاق عالم، صوبائی جنرل سیکریٹری کشور کمار، سینئر لیڈر سبرہم سنگھ کُشواہا، رام بلی سنگھ چندروشی، وینیٹا مشرا اور میڈیا انچارج عبید الرحمن سمیت کئی سینئر رہنما موجود تھے۔

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور