پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار حکومت کے ذمہ دار افسران پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا ہے اور شراب بندی کے قانون کے تحت ایک رہائشی مکان کو بغیر کسی قانونی بنیاد کے سیل کرنے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ جج ارون کمار جھا نے نیلم کمار کی فوجداری رٹ درخواست پر سنایا۔
معاملہ جہان آباد ضلع کے ہنومان نگر کا ہے، جہاں نیلم کمار کے بیٹے کے پاس 6 اکتوبر 2019 کو پولیس نے تقریباً 8.5 لیٹر غیر ملکی شراب برآمد کی تھی۔ تاہم تفتیش میں نیلم کمار کی کسی قسم کی ملوثیت ثابت نہیں ہوئی۔
لیکن دو سال بعد، 31 جنوری 2022 کو پولیس نے اچانک نیلم کے مکان پر تالہ لگا کر اسے سیل کر دیا۔ درخواست گزار کے وکلاء نے عدالت میں دلیل دی کہ کسی بھی مکان یا احاطے کو شراب برآمدگی کے معاملے میں اس کے مالک کی ملوثیت کے بغیر سیل نہیں کیا جا سکتا۔
ہائی کورٹ نے بھی اسے تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ شراب بندی کے قانون کا استعمال مکان کو دو سال بعد سیل کرنے کے لیے نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے نیلم کمار کے مکان کو جلد از جلد آزاد کرنے کا بھی حکم دیا۔
بہار میں سال 2016 سے مکمل شراب بندی نافذ ہے۔ اس کے باوجود اس قسم کے واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ شراب سے متعلق جرائم میں مکان مالک کی ملوثیت ثابت نہ ہونے پر حکومتی کارروائی غیر قانونی سمجھی جائے گی۔