مسلمانوں کا قربت حاصل کرنے کی کوشش میں نتیش کمار، پہونچے شرف الدین یحییٰ منیری کے 660 ویں عرس میں

پٹنہ (سیف الرحمٰن/انصاف ٹائمس) بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ہمیشہ سے مسلمانوں کے قریب اور ایک سیکولر سیاست کا چہرہ مانے جاتے رہے ہیں اور عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ پالیسی کے سطح پر انہوں نے مسلمانوں کے مفاد میں اچھا کام کیا ہے ساتھ ہی یہ مانا جاتا رہا ہے کہ نتیش کمار زیادہ تر وقت بھاجپا کے ساتھ اتحاد میں رہے ہے لیکن اس کے باوجود بھاجپا و سنگھ کے پالیسیوں کے راستے میں بہار میں سب سے مضبوط رکاوٹ بھی نتیش ہی رہے ہیں- ان تمام کے باوجود بھاجپا کے ساتھ دوبارہ جانے کے بعد مسلمانوں نے نتیش سے تعلق مکمّل توڑ لیا تھا جس کا اثر 2020 کے اسمبلی الیکشن میں دیکھنے کو ملا کہ اُنکی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ سے ایک بھی مسلم چہرہ کامیاب ہوکر نہیں جا سکا- وزیر اعلیٰ اس رزلٹ کے بعد لگاتار مسلمانوں کو دوبارہ واپس لانے کی کوششوں میں نظر آنے لگے ہیں خاص کر راشٹریہ جنتا دل نے جب سے بھوميهار کو قریب کرنے کا عمل شروع کیا ہے تب سے نتیش کے بیانات و مسلم اداروں میں انکے دوروں نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے اب چاہے وہ مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا معاملہ ہو یا بہار میں سی اے اے کے نفاذ کا سوال اسی طرح رمضان میں لگاتار افطار پارٹیوں کے دورے ہو یا عید کے موقع پر مسلمانان بہار و اریسہ،جھارکھنڈ کے سب سے بڑے ادارے و تنظیم امارت شرعیہ سمیت ادارہ شرعیہ ،خانقاہ مجیبیہ وغیرہ کا دورہ ہو- یہ تمام عمل کسی نئی سیاست کا اشارہ کر رہے ہیں اور اسی سلسلہ میں وزیر اعلیٰ آج اپنے آبائی ضلع نالاندہ میں موجود ہندوستان کے مشہور بزرگ شرف الدین یحییٰ منیری کے 660 ویں عرس میں بھی پہونچ گئے اور چادر پوشی بھی کیے

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور