بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے اپنے وِدھان پریشد کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ اقدام اس لیے ضروری تھا کیونکہ وہ حال ہی میں راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا دورانیہ 10 اپریل سے شروع ہوگا۔
اس استعفے کے بعد بہار میں وزیراعلیٰ کے عہدے کی دوڑ زور پکڑ گئی ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق، بھاجپا کے نائب وزیراعلیٰ اور وِدھان سبھا کے رہنما سمراٹ چودھری وزیراعلیٰ کے سب سے مضبوط امیدوار ہیں۔
سمراٹ چودھری اس لیے بھی ترجیحی امیدوار ہیں کیونکہ وہ کشواہا برادری کے معروف رہنما ہیں۔ کشواہا بہار کی دوسری سب سے بڑی پچھڑی ذات ہے، جس سے بھاجپا کو پچھڑا توازن بنانے میں فائدہ ہوگا، اور سمراٹ کو نتیش کمار کی پسند بھی مانا جاتا ہے۔
دوسری جانب، نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کے نائب وزیراعلیٰ بننے کے امکانات بھی زیرِ غور ہیں۔ جدیو کے کارکنان و لیڈران انہیں نتیش کے جانشین کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ نئی حکومت میں ممکن ہے کہ جدیو سے دو نائب وزیراعلیٰ ہوں – ایک نشانت کمار اور دوسرا سورن یا مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا۔
مزید برآں، بھاجپا کے وزیر رام کرپال یادو کا نام بھی ممکنہ امیدواروں میں شامل ہے، کیونکہ یادو برادری پر ان کا اثر انہیں اہم سیاسی شخصیت بناتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں گورنر کے پاس حکومت تشکیل دینے کا خط پیش کیا جائے گا، اور نئے وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ کے نام باقاعدہ طور پر اعلان کیے جائیں گے۔ یہ سیاسی تبدیلی بہار کی سیاست میں نئی ہلچل اور اہم موڑ کا عندیہ دیتی ہے۔