نرشد عالم نے بتایا، “میں ایک دکان پر سامان لینے گیا تھا۔ ا دوران ایک نوجوان آیا اور کہا کہ ‘بھارت ماتا کی جے’ اور ‘جے شری رام’ کہو۔ میں نے کہا کہ ہم ‘جے بھارت’ کہہ سکتے ہیں لیکن ‘جے شری رام’ نہیں۔ ایک گھنٹے بعد وہی نوجوان دھمکیاں دیتا ہوا واپس آیا اور جبراً کہوانے کی کوشش کی۔ مجبوراً میں نے وہ الفاظ کہہ دیے۔”
متاثرہ نے آگے بتایا، “کل ہوکر کام پر گیا تو دوپہر میں لنچ کے لیے باہر گیا۔ واپسی پر دکان کے سامنے 2-3 لوگ کھڑے تھے۔ انہوں نے مجھے پکڑ لیا اور کہا کہ میں بنگلہ دیشی ہوں۔ اس کے بعد مجھے تقریباً 3 کلومیٹر گھسیٹتے ہوئے پیٹا گیا۔ میرا ناک اور منہ خون سے بھر گیا، لیکن کوئی مدد نہیں کی۔ بھیڑ نے دھمکی دی کہ مجھے کالی مندر میں چڑھا دیں گے اور زندہ دفن کر دیں گے۔ وہاں تقریباً 50 لوگ جمع تھے اور دیر تک لات گھونسوں سے حملہ کیا۔”
متاثرہ کے گاؤں والوں نے تھانے میں شکایت درج کروائی۔ تھانےدار نے کہا، “چوٹیں لگیں ہیں، ہم تحقیقات کر رہے ہیں۔ دکاندار سے بھی پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔” ابتدائی طور پر متاثرہ ایف آئی آر درج کروانے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے، لیکن پولیس کی رہنمائی پر انہوں نے درخواست دی اور مقدمہ درج کر لیا گیا۔
اس واقعے کے بعد متاثرہ کے گاؤں کے دیگر مزدور بھی خوف کے باعث کام چھوڑ کر اپنے گاؤں واپس چلے گئے، جس سے علاقے میں دہشت کا ماحول پیدا ہو گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی وارداتیں سماجی تناؤ اور خوف کا ماحول پیدا کرتی ہیں اور مزدوروں کی حفاظت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔