بابری مسجد کی شہادت کی برسی کے موقع پر سوشل میڈیا پر کی گئی ایک پوسٹ میرٹھ ضلع کی ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کے لیے پولیس کارروائی کا سبب بن گئی۔ موانہ قصبے سے تعلق رکھنے والی آیورویدک معالجہ ڈاکٹر شیبا خان کو پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر حراست میں لیا، بعد ازاں ذاتی مچلکہ پر رہا کر دیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق 6 دسمبر کو، جسے انتظامیہ ایک نہایت حساس دن تصور کرتی ہے، پورے صوبے میں سکیورٹی ایجنسیاں الرٹ پر تھیں۔ اسی دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی کڑی نگرانی کی جا رہی تھی۔ نگرانی کے عمل میں ڈاکٹر شیبا خان کی جانب سے شیئر کی گئی ایک آڈیو-ویڈیو کلپ سامنے آئی، جسے بابری مسجد انہدام سے جوڑ کر دیکھا گیا۔
موانہ تھانہ پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو کے مواد اور اندازِ پیشکش کو اس نظر سے دیکھا گیا کہ یہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا، 2023 کی دفعہ 196 اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 67 کے تحت مقدمہ درج کیا۔ ان دفعات کا اطلاق آن لائن قابلِ اعتراض یا نفرت انگیز مواد کی اشاعت و ترسیل پر ہوتا ہے۔
اتوار کے روز پولیس نے ڈاکٹر شیبا خان کو ان کے عبداللہ پور واقع کلینک سے حراست میں لیا اور انسدادی کارروائی کے تحت عدالت میں پیش کیا۔ سب ڈویژنل مجسٹریٹ سنتوش کمار سنگھ کے مطابق، ذاتی ضمانت پیش کیے جانے کے بعد ڈاکٹر کو رہا کر دیا گیا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ ویڈیو کی تکنیکی جانچ جاری ہے، تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ آیا اس میں ترمیم کی گئی ہے یا نہیں اور اس کے پیچھے کیا نیت کارفرما تھی۔ جانچ رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد کو منہدم کیا گیا تھا، جو ہندوستان کی فرقہ وارانہ تاریخ کا ایک نہایت حساس اور دردناک باب مانا جاتا ہے۔ ہر سال اس دن ریاست بھر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں اور سوشل میڈیا سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھی جاتی ہے۔
تاحال ڈاکٹر شیبا خان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی عوامی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر اظہارِ رائے کی آزادی اور ریاستی نگرانی کے درمیان توازن پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔