انصاف ٹائمس ڈیسک
بہار اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے طلبہ رہنماؤں نے انڈیا الائنس سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی سیاست کو صرف بی جے پی مخالف نعروں تک محدود نہ رکھے بلکہ سماجی انصاف، مساوی نمائندگی اور ترقی پر مبنی ایجنڈے کو اپنے منشور کا مرکزی حصہ بنائے۔
اتوار کو جاری ایک پریس ریلیز میں مانو اسٹوڈنٹس یونین کے سابق جنرل سیکریٹری فیضان اقبال نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں انڈیا الائنس کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ پسماندہ، انتہائی پسماندہ، دلت اور مسلم طبقوں کو فیصلہ سازی میں برابری کی شرکت دے۔
انہوں نے کہا، “صرف نعروں اور جذبات سے اتحاد کو مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔ عوام ٹھوس پالیسی اور ایماندار نمائندگی چاہتی ہے۔”
مانو اسٹوڈنٹس یونین کی سابق جوائنٹ سیکریٹری شگفتہ اقبال نے انڈیا الائنس کے قائدین، بالخصوص تیجسوی یادو اور دیگر اعلیٰ رہنماؤں کے سامنے آٹھ نکاتی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اتحاد ان نکات پر عمل کرتا ہے تو یہ نہ صرف سماجی توازن کو مضبوط کرے گا بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی گہرا بنائے گا۔
مانو اسٹوڈنٹس یونین کی آٹھ نکاتی تجاویز:
1.چار “انصاف دستاویزات” جاری کیے جائیں:
پسماندہ، انتہائی پسماندہ، دلت اور مسلم طبقوں کے لیے علیحدہ “انصاف دستاویزات” تیار کیے جائیں جن میں تعلیم، روزگار، معیشت، تحفظ اور احترام سے متعلق واضح اقدامات شامل ہوں۔
2.مسلم نمائندگی کو یقینی بنایا جائے:
ریاست کی کل نشستوں میں سے کم از کم 40 نشستیں مسلم امیدواروں کو دی جائیں۔ دلت، انتہائی پسماندہ اور خواتین کو بھی ان کی آبادی اور حمایت کے تناسب سے ٹکٹ دیا جائے۔
نائب وزرائے اعلیٰ میں شمولیت:
وزیراعلیٰ کے ساتھ ایک ایک نائب وزیراعلیٰ کا انتخاب انتہائی پسماندہ، دلت اور مسلم طبقے سے کیا جائے تاکہ اقتدار میں حقیقی شراکت داری قائم ہو۔
4.مسلم خواتین کو نمائندگی:
ٹکٹ تقسیم میں مسلم خواتین کو باوقار نمائندگی دی جائے تاکہ ان کا سیاسی کردار مستحکم ہو۔
5.مسلم نشستوں کا تحفظ:
جن اسمبلی حلقوں سے پچھلے انتخابات میں مسلم امیدوار میدان میں تھے، وہ نشستیں دیگر طبقوں کو نہ دی جائیں۔
6.ہر زون میں مسلم امیدوار:
گیا، مگدھ، مونگیر اور سیمانچل سمیت ہر خطے میں کم از کم ایک مسلم امیدوار کھڑا کیا جائے تاکہ ووٹوں کی تقسیم نہ ہو۔
7.ترقی کا ٹھوس روڈ میپ:
تعلیم، روزگار، صحت، زراعت، سڑک اور نشہ بندی جیسے مسائل پر مبنی ایک واضح ترقیاتی وژن جاری کیا جائے۔
8.فکری منشور کی تیاری:
گاندھی، امبیڈکر، سوشلسٹ اور ترقی پسند نظریات کی بنیاد پر انڈیا الائنس کو فرقہ پرست اور اعلیٰ ذات پرست طاقتوں کے خلاف کھلا مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
مانو اسٹوڈنٹس یونین کی سابق جوائنٹ سیکریٹری انعم جہاں نے کہا کہ اگر انڈیا الائنس صرف مخالفت کی سیاست تک محدود رہا تو عوامی اعتماد کمزور ہو جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اتحاد کے قائدین ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور سماجی انصاف و ترقی پر مبنی پالیسی کے ساتھ عوام کے درمیان جائیں گے۔