مدراس ہائی کورٹ کی سخت تنقید: ’احتیاطی حراست کے قوانین آمرانہ ہیں، اختلافِ رائے دبانے کے لیے استعمال نہیں ہو سکتے‘

مدراس ہائی کورٹ نے احتیاطی حراست/پریوینٹیو ڈیٹینشن کے قوانین پر نہایت اہم اور سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قوانین اپنی نوعیت میں ’’آمریت پسند (ڈریکونین)‘‘ ہیں اور ریاست انہیں سیاسی انتقام لینے یا اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال نہیں کر سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے اختیارات کا استعمال صرف انتہائی نادر حالات میں اور غیر معمولی احتیاط کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔

جسٹس ایس ایم سبرامنیم اور جسٹس پی دھنبال پر مشتمل بنچ نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ احتیاطی حراست ایک غیر معمولی اور سخت اختیار ہے، جس کے تحت انتظامیہ کسی شخص کو بغیر مقدمہ چلائے جیل بھیج سکتی ہے۔ عدالت کے مطابق اگر اس اختیار کا استعمال بدنیتی، لاپرواہی یا سیاسی مقاصد کے تحت کیا گیا تو عدلیہ اسے سنجیدگی سے لے گی اور مداخلت سے گریز نہیں کرے گی۔

ہائی کورٹ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ احتیاطی حراست کے قوانین نہ تو سیاسی اسکور سیٹل کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی حکومت پر تنقید کرنے والوں کو خاموش کرانے کے لیے۔ بنچ نے خبردار کیا کہ اگر حراستی احکامات بیرونی دباؤ، ذاتی مفاد یا سیاسی انتقام کے جذبے کے تحت جاری کیے گئے پائے گئے تو متعلقہ پولیس اور انتظامی افسران کے خلاف سروس رولز کے تحت تادیبی کارروائی لازمی ہوگی۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شخصی آزادی ریاست کی عطا کردہ کوئی رعایت نہیں بلکہ آئین کی جانب سے دیا گیا ایک بنیادی حق ہے۔ ریاست شہریوں کی محافظ ہوتی ہے اور اگر وہ اس حق کے تحفظ میں ناکام رہتی ہے تو ایسا عمل غیر آئینی تصور کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ ایسی صورت میں متاثرہ شہری کو ریاست اور اس کے اہلکاروں کے خلاف ہرجانے سمیت مناسب قانونی راحت حاصل کرنے کا پورا حق ہوگا۔

یہ سخت ریمارکس تمل ناڈو کے یوٹیوبر اور تحقیقی صحافی وراکی کی حراست سے متعلق ایک معاملے میں دیے گئے۔ وراکی کو تمل ناڈو گنڈا ایکٹ کے تحت ’’جنسی مجرم‘‘ قرار دے کر احتیاطی حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کی اہلیہ نے ہائی کورٹ میں بندي پرتیاکشیکرن (ہیبیئس کارپس) کی عرضی دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے شوہر کو ریاستی حکومت اور انتظامیہ پر تنقید کرنے کی پاداش میں نشانہ بنایا گیا۔

عدالت نے اپنے حکم میں نوٹ کیا کہ وراکی کے خلاف درج پانچ مقدمات پہلے ہی سی بی-سی آئی ڈی کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔ ہائی کورٹ کے ایک سنگل جج ان مقدمات کو بادی النظر میں بدنیتی پر مبنی (مالا فائیڈ) قرار دے چکے تھے۔ اس کے علاوہ ایک اور معاملہ مکان مالک اور کرایہ دار کے درمیان تنازع سے متعلق تھا، جسے کرایہ کنٹرول عدالت میں حل کیا جا سکتا تھا۔

ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ نے وراکی کو 12 ہفتوں کی عبوری ضمانت دے دی۔ عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے پر رہائی کا حکم دیا اور یہ شرط عائد کی کہ وہ ملک سے باہر نہیں جائیں گے، گواہوں کو متاثر نہیں کریں گے اور تفتیش میں مکمل تعاون کریں گے۔

واضح رہے کہ بھارت میں احتیاطی حراست کے قوانین پر طویل عرصے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ ان قوانین کا استعمال اکثر صحافیوں، سماجی کارکنوں، انسانی حقوق کے محافظوں، اقلیتوں اور سیاسی اختلاف رکھنے والوں کے خلاف کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقی قومی سلامتی کے خطرات سے نمٹنے میں ان کا استعمال نہایت محدود رہا ہے۔

انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق احتیاطی حراست کے قوانین آئین کے آرٹیکل 21 — زندگی اور شخصی آزادی کے حق — سے متصادم ہیں۔ متعدد معاملات میں حراست کی بنیادیں مبہم ہوتی ہیں، معلومات فراہم کرنے میں تاخیر کی جاتی ہے اور سخت شرائط کے باعث افراد بغیر مقدمہ اور سزا کے طویل عرصے تک جیل میں رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

مدراس ہائی کورٹ کی یہ آبزرویشن نہ صرف تمل ناڈو بلکہ پورے ملک میں احتیاطی حراست کے قوانین کے ممکنہ غلط استعمال پر ایک اہم آئینی انتباہ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور