جموں ترقیاتی اتھارٹی کی جانب سے جمعرات کو مقامی صحافی افراز ڈینگ کے گھر کو مبینہ تجاوزات کے الزام میں منہدم کیے جانے کے بعد اس کارروائی پر سیاسی حلقوں، صحافتی اداروں اور سول سوسائٹی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ صحافی اور ان کے اہل خانہ نے اس اقدام کو ’’انتقامی‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ گھر توڑنے سے قبل کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔
اسی دوران، واقعے کے اگلے ہی دن صحافی کے ایک ہندو پڑوسی نے آگے بڑھ کر انہیں اپنی زمین کا حصہ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا “اگر ان کا دس مرلہ مکان توڑا ہے تو ہم بیس مرلہ زمین دیں گے۔”
افراز ڈینگ نے بتایا کہ منہدم کیا گیا مکان ان کے والد غلام قادر کے نام درج تھا اور یہ تقریباً چار دہائی قبل تعمیر کیا گیا تھا، اس وقت جب جی.ڈی.اے کا وجود بھی نہیں تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کارروائی دراصل اس لیے ہوئی کہ انہوں نے حال ہی میں جموں میں ایک بڑے منظم منشیات ریکٹ پر رپورٹ کی تھی اور ایک پولیس افسر پر ملوث ہونے کے سنگین الزامات لگائے تھے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ڈینگ کو اپنے منہدم گھر کے سامنے رپورٹنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ پولیس اہلکار انہیں روکنے اور موبائل چھیننے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حکومت کو پہلے بڑے نجی ہوٹلوں، تجارتی ڈھانچوں اور سیاسی سرپرستی میں موجود قبضوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، نہ کہ غریبوں اور کمزوروں کو نشانہ بنانا چاہیے۔
افراز کے والد کا کہنا تھا “ہم محنت کش لوگ ہیں۔ یہ گھر پسینے کی کمائی سے تعمیر کیا تھا۔ ہمیں بچوں کا سامان نکالنے تک کی مہلت نہیں دی گئی۔”
کارروائی کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور انسانی حقوق کے گروہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ عام آدمی پارٹی لیڈر جیش گپتا نے اسے “طاقت کے ذریعے کمزوروں کو دبانے کی کوشش” قرار دیا۔ نیشنل کانفرنس کے رہنما راجیش نے دعویٰ کیا کہ “گھر والوں کو نوٹس نہیں ملا، جو کھلی قانونی خلاف ورزی ہے۔”
جموں کشمیر ہائی کورٹ کے وکیل ذو القرنین چوہدری نے کہا کہ عدالت کے ریکارڈ کے مطابق JDA کی تقریباً 20 لاکھ کنال زمین پر قبضے موجود ہیں، مگر کارروائی صرف غریبوں تک محدود ہے۔
انہوں نے کہا “اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو بلڈوزر بھی سب پر برابر چلنا چاہیے۔”
اسی دوران کنگن علاقے میں بھی مبینہ تجاوزات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ پیپلز کانفرنس لیڈر سجاد لون نے اس اقدام کو “سزا دینے اور خوف پیدا کرنے کی پالیسی” قرار دیا۔ پی ڈی پی رہنما وہاب الرحمان نے کہا ک “20 سال یا اس سے زیادہ عرصے سے بسے ہوئے لوگ تجاوزات کے مجرم نہیں، بلکہ آئینی طور پر رہائش کے حق کے حامل شہری ہیں۔”
حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
اس واقعے نے جموں و کشمیر میں حکمرانی کی شفافیت، پریس کی آزادی اور اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر شدید بحث کو جنم دیا ہے۔
فی الحال افراز ڈینگ اور ان کا خاندان عارضی ٹھکانے پر رہائش پذیر ہے جبکہ پڑوسی کی طرف سے دی گئی زمین پر دوبارہ گھر تعمیر کرنے کا عمل جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔