بہار کی سیاست میں آج ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جب جنتا دل (یونائیٹڈ) کے سینئر رہنما کے سی تیاگی نے وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھارت رتن دینے کی درخواست کی، جس کے بعد پارٹی نے اس بیان سے صاف فاصلہ اختیار کر لیا ہے۔
کے سی تیاگی نے وزیراعظم نریندر مودی کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کو ملک کے سب سے اعلیٰ شہری اعزاز بھارت رتن سے نوازا جانا چاہیے۔ انہوں نے اپنے خط میں نتیش کمار کی سماجی انصاف، ششاسن اور ترقی میں خدمات کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ سماج وادی تحریک کا انمول موتی ہیں۔
تاہم، اس درخواست پر جے ڈی یو قیادت خوش نہیں دکھائی دی۔ پارٹی کے قومی ترجمان راجیو رنجن پرساد نے کہا کہ کے سی تیاگی کا یہ بیان ان کی ذاتی رائے ہے اور اس کا پارٹی کی آفیشیل پالیسی یا سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تیاگی کا اب پارٹی کے ساتھ کوئی رسمی تعلق نہیں ہے۔
اس تنازع کے دوران سیاسی گلیاروں میں یہ بھی بات گردش کر رہی ہے کہ کے سی تیاگی کی پارٹی میں کردار اور عہدے کو لے کر پہلے سے ہی عدم اطمینان تھا۔ کچھ ذرائع کے مطابق، پارٹی قیادت پچھلے بیانات سے ناخوش تھی، جس کی وجہ سے تیاگی کی سیاسی حیثیت اور کردار پر سوالات اٹھنے لگے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک اعزاز کی درخواست نہیں، بلکہ جے ڈی یو کے اندرونی تعلقات اور قیادت کے ساتھ سیاسی توازن کے لیے بھی اہم ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ اس سے نتیش کمار کے تنظیمی اثر و رسوخ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ بھارت رتن ملک کا سب سے اعلیٰ شہری اعزاز ہے اور اب تک زندہ رہنماوں کو شاذ و نادر ہی یہ اعزاز ملا ہے۔ لیکن سیاسی اور عوامی مفادات کے ساتھ یہ درخواست سیاسی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔