مبینہ طور پر قانونی طریقۂ کار اختیار کیے بغیر ایک تجارتی ڈھانچے کو منہدم کیے جانے کے سنگین معاملے میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے مرکز کے زیر انتظام خطے کی انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت میں دائر عرضی میں متاثرہ فریق نے 5 کروڑ روپے معاوضہ، حقِ روزگار کی خلاف ورزی کی عدالتی توثیق اور منہدم کیے گئے ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔
جسٹس راہل بھارتی کی واحد رکنی بنچ نے عرضی گزار فاروق احمد وانی کی درخواست پر سماعت کے دوران کہا کہ یہ معاملہ انتظامی کارروائی اور آئینی حقوق کے باہمی تصادم سے جڑا ہوا ہے۔ عرضی کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے بھاری پولیس نفری اور مشینری کے ساتھ کسی پیشگی نوٹس یا سماعت کے بغیر تجارتی ڈھانچے کو منہدم کر دیا، جس کے نتیجے میں عرضی گزار کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا اور اس کا ذریعۂ معاش ختم ہو گیا۔
عرضی گزار نے عدالت کو بتایا کہ وہ متعلقہ اراضی پر 8 مارچ 2018 کو طے پانے والے ایک قانونی معاہدے کی بنیاد پر قابض تھا، جو ریاستی اراضی کے اصل الاٹی کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود انتظامیہ کی کارروائی کو اس نے من مانی اور قانون کے منافی قرار دیا۔
عرضی میں سپریم کورٹ کے احکامات—In Re: Directions in the matter of demolition of structures (2022)—کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی بھی انہدام سے قبل نوٹس، سماعت کا موقع اور مقررہ قانونی طریقۂ کار پر عمل لازمی ہے۔ عرضی گزار کا الزام ہے کہ ان تمام حفاظتی اصولوں کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی۔
معاوضے کے علاوہ، عرضی میں منہدم شدہ ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر کے احکامات، متعلقہ افسران کے خلاف تحقیقات اور مستقبل میں کسی بھی انہدام سے قبل قانونی طریقۂ کار کی سختی سے پابندی کو یقینی بنانے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے مقام پر جوں کا توں حالت برقرار رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت تک وہاں کسی بھی قسم کی تعمیر یا دوبارہ تعمیر نہیں کی جائے گی۔ یہ حکم فریقِ مخالف کے اعتراضات کے تابع ہوگا۔
مرکز کے زیر انتظام خطے کی انتظامیہ کی جانب سے سینئر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے نوٹس قبول کر لیا ہے۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت کی تاریخ 31 جنوری 2026 مقرر کی ہے۔
ملک بھر میں حالیہ برسوں کے دوران بلڈوزر کے ذریعے کی جانے والی انہدامی کارروائیوں—جنہیں عام طور پر ’بلڈوزر جسٹس‘ کہا جاتا ہے—پر بڑھتی ہوئی بحث نے اس معاملے کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ عدالتی فورمز پر مسلسل یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ایسی کارروائیاں آئین کے تحت فراہم کردہ حقِ حیات اور حقِ روزگار سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں۔ ہائی کورٹ کا یہ نوٹس اسی بحث میں ایک اہم قانونی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔