چابہار پر اسرائیلی حملہ: ایران۔اسرائیل کشیدگی کے درمیان بھارت کی 370 ملین ڈالر سرمایہ کاری خطرے میں

مغربی ایشیا میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے دوران ایران کی اسٹریٹجک چابہار بندرگاہ پر ہونے والے اسرائیلی حملے نے بھارت کی تزویراتی اور معاشی منصوبہ بندی کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملے میں شہید بہشتی ٹرمینل کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ یہی وہ ٹرمینل ہے جس کا انتظام بھارت سنبھال رہا تھا اور جس میں سینکڑوں ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان فوجی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں اور پورے خطے میں عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بھارت نے 2024 میں ایران کے ساتھ دس سالہ معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت انڈین پورٹس گلوبل لمیٹڈ کو شہید بہشتی ٹرمینل کی ترقی اور آپریشن کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

اس منصوبے کے تحت 120 ملین ڈالر کی براہِ راست سرمایہ کاری اور 250 ملین ڈالر کی قرض سہولت شامل تھی۔ مجموعی سرمایہ کاری کا تخمینہ 350 سے 370 ملین ڈالر کے درمیان لگایا گیا ہے۔ اسے بھارت کی مغربی بحری اور تجارتی حکمتِ عملی کا ایک کلیدی ستون تصور کیا جاتا رہا ہے۔

چابہار بندرگاہ بھارت کو پاکستان کو نظرانداز کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی فراہم کرتی ہے۔ یہ بندرگاہ گوادر کے قریب واقع ہے، جسے چین کی حمایت حاصل ہے۔

اسٹریٹجک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر چابہار کی عملی صلاحیت متاثر ہوتی ہے تو بھارت کی علاقائی رابطہ پالیسی اور پاکستان کو بائی پاس کرنے کی حکمتِ عملی کمزور پڑ سکتی ہے۔

چابہار، بین الاقوامی شمال۔جنوب راہداری کا اہم دروازہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ راہداری بھارت کو ایران کے راستے روس اور وسطی ایشیا سے جوڑتی ہے۔ اسی راستے کے ذریعے بھارت افغانستان کو غذائی اجناس اور انسانی امداد فراہم کرتا رہا ہے۔ حملے کے بعد اس متبادل تجارتی راستے کی تسلسل اور سلامتی پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

بھارت اپنی تقریباً 85 فیصد خام تیل کی ضروریات درآمد کے ذریعے پوری کرتا ہے۔ مغربی ایشیا میں ایران۔اسرائیل کشیدگی میں اضافے اور بحری راستوں کو لاحق خطرات کے باعث تیل کی فراہمی اور قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں صورتِ حال بگڑتی ہے تو اس کے براہِ راست اثرات بھارتی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایک جانب اسرائیل کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون کو مستحکم کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ طویل المدتی اسٹریٹجک منصوبوں میں بھی شریک ہے۔ موجودہ صورتِ حال نے نئی دہلی کے لیے توازن قائم رکھنا مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے تفصیلی سرکاری ردِعمل کا انتظار ہے۔ فی الحال اتنا واضح ہے کہ چابہار پر حملہ محض ایک بندرگاہ کو پہنچنے والے نقصان کا معاملہ نہیں بلکہ مغربی ایشیا میں بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی توازن کی عکاسی کرتا ہے۔

ایران جنگ میں مذہب کا استعمال: نیتن یاہو نے ‘عمالیک’ کا حوالہ دیا، امریکی فوج میں “آرمگیڈن” کی تشہیر کا دعویٰ

ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی اب صرف جغرافیائی یا سیاسی تنازعہ نہیں رہی۔ اسرائیل

چابہار پر اسرائیلی حملہ: ایران۔اسرائیل کشیدگی کے درمیان بھارت کی 370 ملین ڈالر سرمایہ کاری خطرے میں

مغربی ایشیا میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے دوران ایران