خلیجی جنگ: لبنان پر اسرائیل کے پے در پے فضائی حملے، صور اور بیروت میں تباہی؛ سات لاکھ کے قریب افراد بے گھر، حزبُ اللہ کی جوابی کارروائیوں سے کشیدگی میں اضافہ

اسرائیل اور حزبُ اللہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران منگل کے روز اسرائیل نے لبنان کے متعدد علاقوں پر شدید فضائی حملے کیے۔ جنوبی شہر صور اور دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں ہونے والی بمباری سے کئی عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہو گئیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اسرائیلی حملوں کے باعث پورے لبنان میں تقریباً چھ لاکھ ستر ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ادھر لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ ہفتے سے جاری حملوں میں تقریباً چار سو چھیاسی افراد ہلاک جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے حملے حزبُ اللہ کے فوجی ٹھکانوں، کمان مراکز اور راکٹ لانچ کرنے کی جگہوں کو نشانہ بنا کر کیے جا رہے ہیں۔ فوج نے دریائے لیتانی کے جنوب میں رہنے والے شہریوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دی ہے اور کم از کم تین سو میٹر دور محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا انتباہ جاری کیا ہے۔

جنوبی لبنان کے ساحلی شہر صور میں ایک عمارت اسرائیلی حملے میں بری طرح تباہ ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد علاقے میں دھوئیں کے گھنے بادل چھا گئے جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف رہیں۔

دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے— حارت حریک، غبیری، لیلکی، حدت، برج البراجنہ اور شیاح— پر بھی اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی۔ یہ علاقہ اجتماعی طور پر الضاحیہ کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہاں بڑی آبادی رہتی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملوں کے بعد متعدد خاندان محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو گئے۔

اس کے علاوہ جنوبی لبنان کے کئی قصبوں— قبریخا، طیبیہ، دیر سریان اور انصاریہ— پر بھی فضائی اور بغیر پائلٹ طیاروں کے حملے کیے گئے، جن میں کئی افراد زخمی ہوئے اور متعدد گھروں کو نقصان پہنچا۔

ادھر حزبُ اللہ نے بھی جوابی کارروائی تیز کر دی ہے۔ تنظیم نے شمالی اور وسطی اسرائیل کے کئی فوجی ٹھکانوں پر میزائل اور راکٹ داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایک حملے میں وسطی اسرائیل میں کم از کم سولہ افراد زخمی ہوئے۔ حزبُ اللہ کے مطابق اس کے جنگجوؤں نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پر گھات لگا کر حملہ کیا اور تین میرکاوا ٹینک کو نشانہ بنایا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازع اب وسیع علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے پورے مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

کایا کالاس، جو یورپی اتحاد کی خارجہ پالیسی کی سربراہ ہیں، نے دونوں فریقوں سے فوری جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات لبنان کو “انتشار کی طرف دھکیل سکتے ہیں” اور اس سے سنگین انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

مسلسل حملوں کے باعث لبنان میں انسانی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ کئی شہروں میں اسٹیڈیم، اسکول اور سرکاری عمارتوں کو عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں ہزاروں بے گھر خاندان پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کی رفتار 2024 کی پچھلی جنگ سے بھی زیادہ تیز ہے۔

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور