ایران جنگ میں مذہب کا استعمال: نیتن یاہو نے ‘عمالیک’ کا حوالہ دیا، امریکی فوج میں “آرمگیڈن” کی تشہیر کا دعویٰ

ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی اب صرف جغرافیائی یا سیاسی تنازعہ نہیں رہی۔ اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نتن یاہو اور امریکی فوج کے بعض کمانڈروں کی جانب سے مذہبی زبان اور مقدس روایات کے استعمال کے دعووں نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔

نتن یاہو نے اس جنگ کو مذہبی اور تاریخی تناظر سے جوڑتے ہوئے کہا: “یاد کرو کہ عاملیک نے تم سے کیا کیا تھا۔” یہ حوالہ یہودی مقدس کتاب تورا کے 1 شموئیل 15:3 سے لیا گیا ہے، جس میں دشمن کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مذہبی حوالے جنگ کو ایک “مذہبی جواز” دینے والا پیغام بھی پیش کر سکتے ہیں۔ ناقدین اس بات پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف ہو سکتا ہے۔

ایک امریکی کمانڈر نے مبینہ طور پر فوجیوں کو بتایا کہ یہ جنگ “خدا کے منصوبے” کا حصہ ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یسوع نے منتخب کیا تاکہ ایران میں جنگ کے آغاز کے بعد قیامت اور یسوع کی واپسی ممکن ہو سکے۔

ملٹری ریلیجس فریڈم فاؤنڈیشن کے مطابق، فوج میں مذہبی تشریحات کے فروغ کے حوالے سے 110 سے زائد شکایات درج کی جا چکی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آئینی طور پر فوج میں مذہب اور ریاست کے علیحدگی کے اصول کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔

اب تک پینٹاگون یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ بین الاقوامی برادری اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے کیونکہ جنگ کے اثرات انسانی حقوق اور علاقائی استحکام پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جنگ اب صرف فوجی تصادم نہیں، بلکہ مذہبی اور سیاسی پیغامات کے امتحان کا بھی معاملہ بن چکی ہے۔

ایران جنگ میں مذہب کا استعمال: نیتن یاہو نے ‘عمالیک’ کا حوالہ دیا، امریکی فوج میں “آرمگیڈن” کی تشہیر کا دعویٰ

ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی اب صرف جغرافیائی یا سیاسی تنازعہ نہیں رہی۔ اسرائیل

چابہار پر اسرائیلی حملہ: ایران۔اسرائیل کشیدگی کے درمیان بھارت کی 370 ملین ڈالر سرمایہ کاری خطرے میں

مغربی ایشیا میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے دوران ایران