ایران کو نیا سپریم لیڈر مل گیا: آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو قیادت سونپ دی گئی

جنگ اور گہرے سیاسی بحران کے درمیان ایران میں اقتدار کا ایک بڑا بدلاؤ سامنے آیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کی اعلیٰ مذہبی کونسل اسمبلی آف ایکسپرٹس نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔

کونسل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 88 رکنی مجلس نے فیصلہ کن ووٹنگ کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ ساتھ ہی ایرانی عوام سے قومی اتحاد برقرار رکھنے اور نئے رہنما کے ساتھ وفاداری کا اظہار کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ بیان میں خاص طور پر جامعات اور دینی اداروں سے وابستہ دانشوروں سے ملک کی قیادت کے ساتھ کھڑے رہنے کی درخواست کی گئی ہے۔

حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق

رپورٹس کے مطابق تہران میں واقع رہائشی کمپلیکس پر ہونے والے حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ حملہ اس وسیع فوجی کارروائی کا حصہ تھا جو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف شروع کی تھی۔

اس حملے میں علی خامنہ ای کے خاندان کے کئی افراد بھی مارے گئے، جن میں ان کی اہلیہ اور ایک بیٹی شامل تھیں۔ تاہم اس وقت مجتبیٰ خامنہ ای وہاں موجود نہیں تھے اور وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔

اقتدار کے ایوانوں میں طویل عرصے سے اثر و رسوخ

56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای باضابطہ طور پر کبھی انتخابی سیاست کا حصہ نہیں رہے، تاہم گزشتہ کئی برسوں سے انہیں ایران کے اقتدار کے حلقوں میں ایک نہایت بااثر شخصیت سمجھا جاتا رہا ہے۔ خاص طور پر ایران کی طاقتور فوجی تنظیم اسلامک ریوولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے اندر ان کے اثر و رسوخ کی بات کی جاتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے سے ایران کی سیاست میں سخت گیر مذہبی دھڑے کی گرفت مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ مستقبل قریب میں مغربی ممالک کے ساتھ کسی بڑے معاہدے یا مذاکرات کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔

تنازعات اور الزامات کی تاریخ

مجتبیٰ خامنہ ای کا نام ماضی میں کئی تنازعات سے بھی جڑا رہا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں اور اصلاح پسند حلقوں نے انہیں 2009 کی ایرانی گرین موومنٹ کے دوران ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے کریک ڈاؤن سے بھی جوڑا تھا۔

اس وقت انتخابی تنازع کے بعد پورے ایران میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے، جنہیں سکیورٹی فورسز اور نیم فوجی دستوں نے طاقت کے ذریعے دبایا تھا۔

مذہبی منصب پر بھی بحث

مذہبی اعتبار سے مجتبیٰ خامنہ ای کا موجودہ درجہ “حجت الاسلام” کا ہے، جو درمیانے درجے کے علما کا منصب سمجھا جاتا ہے۔ عموماً ایران کا سپریم لیڈر “آیت اللہ” کے بلند مذہبی درجے پر فائز ہوتا ہے۔ تاہم 1989 میں ان کے والد کے سپریم لیڈر بننے کے وقت بھی اسی طرح آئینی بندوبست میں تبدیلی کی گئی تھی۔

غیر یقینی حالات میں نئی قیادت

ایران اس وقت بیرونی فوجی دباؤ، اندرونی بے چینی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں مجتبیٰ خامنہ ای کا سپریم لیڈر بننا نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور