مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ طویل اور شدید جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی دباؤ کے آگے جھکنے والا نہیں۔ ایرانی فوجی اور سیاسی قیادت کی جانب سے یکے بعد دیگرے بیانات جاری کیے گئے ہیں جن سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ یہ تنازعہ جلد ختم ہونے والا نہیں۔
اسلامی انقلابی گارڈ کور کے ترجمان علی محمد نائینی نے کہا کہ ایران کم از کم چھ ماہ تک شدید نوعیت کی جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے کئی نئے میزائل اور ڈرون نظام ابھی تک استعمال ہی نہیں کیے گئے ہیں۔
نائینی کے مطابق اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو ایران اس سے بھی زیادہ طاقتور فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
شہری ہلاکتوں کا بڑا دعویٰ
ایران کے نائب وزیرِ صحت ڈاکٹر علی جعفریان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں صرف نو دن کے اندر 1,255 سے زائد افراد ہلاک جبکہ تقریباً 12 ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق مرنے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کئی رہائشی عمارتیں، اسپتال اور امدادی مراکز بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ایرانی ریڈ کریسنٹ کی جانب سے جاری ویڈیو میں تہران کی ایک تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے لاشیں نکالتے ہوئے امدادی کارکنوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
تیل کے بنیادی ڈھانچے پر حملے، عالمی منڈی کو انتباہ
ایران کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ آئی آر جی سی سے وابستہ ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملہ کر کے امریکہ نے جنگ کا “نیا باب” کھول دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا، “اگر وہ 200 ڈالر فی بیرل تیل کی قیمت ادا کر سکتے ہیں تو یہ کھیل جاری رکھیں۔”
ماہرین کے مطابق اگر یہ تنازعہ طویل ہوا تو عالمی تیل منڈی اور بین الاقوامی معیشت پر اس کے سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔
نئے سپریم لیڈر کو فوج کی حمایت
دوسری جانب ایران کی سیاست میں بھی ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ملک کی مسلح افواج نے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر تسلیم کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی ہے اور ان کے ساتھ وفاداری کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ موجودہ حساس حالات میں نیا رہنما ملک کی رہنمائی کر سکتا ہے اور ان کی قیادت کی پیروی کرنا سب کے لیے دینی اور قومی فریضہ ہے۔
قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی تعلیمات اور تجربے کی بنیاد پر ملک کی قیادت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
“ایران دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا”
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ملک کسی بھی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا اور اپنی سرزمین کے ایک انچ پر بھی قبضہ نہیں ہونے دے گا۔
ادھر وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا، “ہم صرف اللہ کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔”
برطانیہ میں ایران کے سفیر سید علی موسوی نے بھی کہا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو ایران اپنے حقِ دفاع کا استعمال کرتا رہے گا۔
علاقائی جنگ کا خدشہ
تجزیہ کاروں کے مطابق مسلسل بڑھتے حملوں اور سخت بیانات کے باعث یہ تنازعہ اب وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بگڑتی صورتحال پر عالمی برادری نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔