کٹیہار ضلع کے ہپلا علاقے میں پیر کے روز موب لنچنگ کا ایک دردناک واقعہ پیش آیا، جہاں معمولی موٹر سائیکل ٹکر کے بعد پیدا ہونے والے تنازع کے دوران مبینہ طور پر 15 سالہ آدیواسی کم عمر لڑکے محمد منظر رائے کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس واقعے سے پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، موٹر سائیکل کی ٹکر کے سبب ہونے والے جھگڑے کے دوران چند افراد نے کم عمر لڑکے پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید طور پر زخمی ہو گیا۔ علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔ اس معاملے میں جن افراد کے نام سامنے آئے ہیں، ان میں نتیش کمار، پاٹل کمار یادو، سجیت کمار یادو، بکی کمار یادو، منّا کمار یادو اور راجو کمار یادو شامل بتائے جا رہے ہیں۔
انصاف ٹائمز نے اس سلسلے میں چھیٹا باڑی پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا، جہاں سے سب انسپکٹر تبریز عالم نے کہا کہ معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ اب تک دو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے صوبائی جنرل سکریٹری رضوان مظہری، کٹیہار ضلع انچارج قمر دانش اور محمد اشرف متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے پہنچے۔ نمائندہ وفد نے سوگوار اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور ہر ممکن قانونی، سماجی اور انسانی مدد کی یقین دہانی کرائی۔
ایس ڈی پی آئی نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور ریاستی حکومت سے تمام نامزد ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے کی سماعت فاسٹ ٹریک عدالت میں کرائی جائے، تاکہ قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دی جا سکے اور متاثرہ خاندان کو انصاف یقینی ہو۔
پارٹی قائدین کا کہنا ہے کہ موب لنچنگ جیسے واقعات آئین، قانون کی حکمرانی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ایسے واقعات پر فوری اور سخت کارروائی نہ صرف انصاف کے لیے ضروری ہے بلکہ سماج میں اعتماد بحال کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
فی الحال پولیس معاملے کی تفتیش میں مصروف ہے۔ علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر سیکورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔