انصاف ٹائمس ڈیسک
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی گوالیر بنچ نے حال ہی میں ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ شادی شدہ بہوئیں چاہے سسرال کی جائیداد میں حصہ دار نہ ہوں، پھر بھی انہیں اپنے شادی شدہ گھر میں رہنے کا حق حاصل ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ حق قانونی طور پر محفوظ ہے اور بہوئیں کو زبردستی گھر سے نکالا نہیں جا سکتا۔
گوالیر کے ٹھاٹی پور علاقے کی دو بہوؤں نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ ان کا الزام تھا کہ سسرال والے انہیں ذہنی اور جسمانی اذیت دے کر گھر سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بہوؤں نے کہا کہ وہ شادی شدہ تعلقات کی بنیاد پر وہیں رہتی ہیں اور انہیں نکالنا ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔
دوسری طرف، ان کی ساس نے دلیل دی کہ بہوؤں کو جائیداد میں کوئی حق نہیں، اس لیے ان کی درخواست قابل قبول نہیں ہے۔
جسٹس جی ایس اہلووالیا کی سنگل بنچ نے سماعت کے بعد کہا:
جائیداد میں حصہ نہ ہونے کا مطلب شادی شدہ گھر میں رہنے کے حق پر اثر نہیں ڈالتا۔
گھریلو تشدد سے تحفظ ایکٹ، 2005 کے تحت یہ حق محفوظ ہے۔
مقدمے میں مانگی گئی کسی بھی جائز راحت کی بنیاد پر پورے مقدمے کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔
اسی بنیاد پر ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے حکم کو کالعدم قرار دیا اور بہوؤں کی درخواست آگے بڑھانے کی اجازت دی۔
قانونی ماہرین نے اسے خواتین کے حقوق کی جانب ایک اہم فیصلہ قرار دیا۔ وکیل مایانک سنگھ نے کہا، “جائیداد کے تنازع یا خاندانی جھگڑوں کے دوران اکثر بہوؤں کو گھر سے نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ شادی کے بعد عورت کا شادی شدہ گھر اس کا قانونی مسکن ہے اور اس کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔”
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ جائیداد کا حق اور شادی شدہ گھر میں رہنے کا حق الگ ہیں۔ شادی شدہ خواتین کو ان کے شادی شدہ گھر میں رہنے کا قانونی تحفظ حاصل ہے اور اسے چھینا نہیں جا سکتا۔