امریکہ اور اسرائیل کے جاری شدید ہوائی اور میزائل حملوں نے نہ صرف ایران کی اقتصادی نظام کو جھنجھوڑ دیا ہے بلکہ انسانی بحران کو بھی شدید کر دیا ہے۔
امریکہ کو بھاری اخراجات
تھنک ٹینک کے مطابق، جنگ کے پہلے سو گھنٹوں میں امریکہ نے تقریباً تین اعشاریہ سات ارب ڈالر خرچ کیے، یعنی روزانہ تقریباً آٹھ سو ایکانوے ملین ڈالر۔ زیادہ تر اخراجات ہتھیاروں، میزائلوں اور ہوائی حملوں پر ہوئے۔ ماہرین کے مطابق، پینٹاگون کو اضافی فنڈز کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جو سیاسی تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔
اسرائیل کی معیشت متاثر
اسرائیل کے مالیاتی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ کی وجہ سے ملک کی معیشت ہر ہفتے تقریباً دو اعشاریہ نو سے تین ارب ڈالر کا نقصان اٹھا رہی ہے۔ تجارتی سرگرمیاں، اسکول اور دفاتر بند ہیں، اور فوجی تیاریوں کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیوں پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔
توانائی اور عالمی منڈی پر اثرات
جنگ کے باعث تیل اور توانائی کی منڈیاں غیر مستحکم ہو گئی ہیں۔ خلیج میں تجارتی راستے، خصوصاً ہرمز کی تنگی، کی غیر یقینی صورتحال نے بین الاقوامی سپلائی متاثر کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے عالمی مہنگائی اور معاشی کساد بازاری کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
انسانی نقصان
ایران میں اب تک ایک ہزار تین سو بتیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔ لبنان اور دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بھی شہری متاثر ہوئے ہیں۔ شہروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
عالمی اثرات
جنگ کا اثر صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں۔ یورپ اور ایشیا کی معیشتیں غیر مستحکم ہیں۔ طویل لڑائی توانائی اور دیگر ضروری سامان کی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے، اور خلیجی ممالک کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی حکمت عملی میں تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
سیاسی دباؤ
جنگ کی بڑھتی ہوئی لاگت اور انسانی نقصان نے عالمی رہنماؤں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ بین الاقوامی فورمز پر امن کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔