خلیجی جنگ: امریکہ نے بھارت کو روسی تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی عارضی چھوٹ دے دی۔

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی اور عالمی تیل کی سپلائی پر منڈلاتے خطرات کے درمیان امریکہ نے بھارت کو روسی خام تیل کی خریداری کے لیے 30 دن کی عارضی چھوٹ دے دی ہے۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عالمی توانائی بازار میں تیل کی مسلسل فراہمی کو برقرار رکھنا اور جنگ کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کرنا ہے۔

امریکی وزارتِ خزانہ کے سربراہ اسکاٹ بیسنٹ نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ یہ ایک “دانستہ طور پر قلیل مدتی اقدام” ہے اور اس سے روس کو کوئی بڑا معاشی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق یہ اجازت صرف ان روسی تیل کی کھیپوں کے لیے ہے جو پہلے ہی جہازوں پر لدی ہوئی سمندر میں موجود ہیں اور جنہیں خریداروں تک پہنچانے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔

امریکی وزارتِ خزانہ کے حکم کے مطابق 5 مارچ 2026 سے پہلے جہازوں پر لدا روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت، سپلائی اور بھارتی بندرگاہوں پر اتارنے کی اجازت 4 اپریل 2026 تک دی گئی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ان سودوں میں خریدار بھارتی قانون کے تحت رجسٹرڈ ادارے ہوں۔

جنگ کے باعث توانائی کا بحران

مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے سبب بین الاقوامی تیل بازار میں عدم استحکام بڑھ گیا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے اطراف بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا کی تیل سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ عالمی سمندری تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی فوجی تصادم کا براہِ راست اثر عالمی منڈی پر پڑ سکتا ہے۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر اس راستے سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے اور درآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک پر دباؤ بڑھ جائے گا۔

بھارت کی توانائی سلامتی پر اثرات

بھارت اپنی مجموعی تیل کی ضرورت کا تقریباً 85 فیصد درآمد کرتا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں رعایتی قیمتوں کے باعث بھارت نے روس سے بڑی مقدار میں خام تیل خریدا تھا۔ تاہم حالیہ مہینوں میں روس سے درآمدات کم کر کے خلیجی ممالک اور امریکہ سے خریداری بڑھانے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی مجموعی تیل درآمدات میں روس کا حصہ کم ہو کر 20 فیصد سے بھی نیچے آ گیا ہے، جو مئی 2022 کے بعد پہلی مرتبہ ہوا ہے۔

امریکہ کی حکمتِ عملی

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ عارضی چھوٹ صرف منڈی میں سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے دی گئی ہے۔ وزارتِ خزانہ کے سربراہ بیسنٹ نے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ بھارت مستقبل میں امریکی توانائی مصنوعات کی خریداری میں اضافہ کرے گا، کیونکہ وہ واشنگٹن کے لیے ایک “اہم شراکت دار” ہے۔

محصولاتی تنازع کا پس منظر

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر بھارت پر 25 فیصد تعزیری محصول عائد کیا تھا۔ امریکہ کا الزام تھا کہ بھارت کی خریداری روس کو یوکرین جنگ میں معاشی سہارا فراہم کر رہی ہے۔

تاہم بعد میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے کے ایک عبوری فریم ورک پر اتفاق کے بعد یہ محصولات واپس لے لیے گئے تھے۔

بھارت میں سیاسی ردِعمل

امریکہ کی جانب سے دی گئی اس چھوٹ پر بھارت میں سیاسی بحث بھی تیز ہو گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ملک کی توانائی پالیسی پر اب امریکی دباؤ کا اثر پڑ رہا ہے۔ کانگریس رہنماؤں نے حکومت سے وضاحت طلب کی ہے کہ بھارت کی توانائی سلامتی اور خارجہ پالیسی کس حد تک بیرونی دباؤ سے متاثر ہو رہی ہے۔

منڈی پر ممکنہ اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی چھوٹ سے فی الحال عالمی تیل بازار میں گھبراہٹ کم ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر مغربی ایشیا کی جنگ طویل ہو جاتی ہے یا آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے تو آنے والے مہینوں میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

ایپسٹین فائلز: ڈونلڈ ٹرمپ پر نابالغ کے ساتھ زیادتی کے الزامات، وزارتِ انصاف نے لاکھوں دستاویزات جاری کر دیں

امریکی محکمہ انصاف (وزارتِ انصاف) نے جمعرات کو جیفری ایپسٹین سے متعلق 35 لاکھ صفحات

خلیجی جنگ: امریکہ نے بھارت کو روسی تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی عارضی چھوٹ دے دی۔

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی اور عالمی تیل کی سپلائی پر منڈلاتے خطرات