خلیجی جنگ: لبنان کے نبی چیت میں اسرائیلی کمانڈوز کی دراندازی، حزب اللہ سے گھنٹوں شدید جھڑپ؛ بیروت پر مسلسل بمباری سے لبنان میں تباہی، 120 سے زائد ہلاکتیں اور لاکھوں افراد بے گھر

لبنان میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جاری جھڑپوں نے جمعہ کی رات ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کر لیا، جب اسرائیلی فوج نے مشرقی لبنان کے قصبے نبی چیت میں ایک نایاب فضائی کمانڈو کارروائی انجام دی۔ اس دوران اسرائیلی خصوصی دستوں اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان کئی گھنٹوں تک شدید لڑائی جاری رہی۔ مقامی صحت حکام کے مطابق اس کارروائی اور اس سے منسلک فضائی حملوں میں کم از کم 40 سے زائد افراد ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق رات کے وقت اسرائیلی فوج کے کئی ہیلی کاپٹر شام کی سرحد کے قریب واقع اینٹی لبنان پہاڑی سلسلے کے اوپر منڈلاتے دیکھے گئے۔ ان میں سے بعض ہیلی کاپٹروں نے نبی چیت کے اطراف کمانڈو دستے اتارے، جس کے بعد علاقے میں شدید فائرنگ شروع ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے قصبے کے اندر ایک قبرستان کے علاقے میں تلاشی مہم بھی چلائی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی 1986 میں لاپتہ ہونے والے اسرائیلی فضائیہ کے ایک نیویگیٹر رون اراد سے متعلق ممکنہ سراغ تلاش کرنے کے لیے کی گئی تھی۔ تاہم بعد میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس آپریشن سے کوئی اہم معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔

اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی کی خبر ملتے ہی حزب اللہ کے جنگجوؤں نے علاقے کو گھیر لیا اور دونوں فریقوں کے درمیان آمنے سامنے کی لڑائی شروع ہو گئی۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس جھڑپ کے دوران فضا میں طیارہ شکن فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اسرائیل نے اپنے کمانڈو دستوں کو نکالنے کے لیے علاقے میں متعدد فضائی حملے بھی کیے، جس کے نتیجے میں آس پاس کے علاقوں میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔

دوسری جانب اسرائیلی فضائیہ نے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں — جو حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں — پر بھی مسلسل بمباری کی۔ ان حملوں میں کئی رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں اور بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو گئے۔ حکام کے مطابق اس ہفتے کے آغاز سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 120 سے زائد افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔

مسلسل بمباری کے باعث بڑی تعداد میں شہریوں کو محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور ملک میں انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب حزب اللہ نے حالیہ دنوں میں شمالی اسرائیل کی جانب راکٹ اور ڈرون حملے کیے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں کے ساتھ ساتھ بیروت کے اطراف بھی بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نبی چیت میں اسرائیلی کمانڈو کارروائی اور بیروت پر جاری حملے اس تنازع کو مزید وسیع کر سکتے ہیں۔ اگر صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو یہ تصادم پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے علاقائی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور