خلیجی جنگ: اسرائیل پر بیلسٹک میزائل حملوں میں کئی زخمی؛ بحرین اور کویت میں ڈرون حملے، آئل ریفائنری اور آبی پلانٹس کو نقصان، عراق کے کرد علاقے سلیمانیہ میں بھی دھماکے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ تیزی سے ایک وسیع علاقائی تصادم کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ خلیج کے کئی ممالک—بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر—پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے بعد پورے خطے میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے گئے ہیں، کئی مقامات پر آگ اور دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ تیل اور توانائی کی سپلائی پر بھی اثر پڑنا شروع ہو گیا ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں نے وسطی اسرائیل کے کئی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ حملوں میں کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے جن میں ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے کئی میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے، تاہم ان کے ملبے کے گرنے سے مختلف مقامات پر نقصان کی اطلاعات ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق تل ابیب کے جنوب میں آسمان پر میزائلوں کی بوچھاڑ اور ان کے انٹرسیپشن کے مناظر دیکھے گئے۔

بحرین میں ریفائنری اور پانی کے پلانٹ متاثر

خلیجی خطے میں سب سے شدید اثر بحرین میں دیکھا گیا۔ ایرانی ڈرون حملے کے بعد سِترا جزیرہ پر واقع ملک کی بڑی آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی۔ اس کے بعد سرکاری توانائی کمپنی باپکو نے اپنے آپریشنز پر “فورس میجر” نافذ کر دیا، جس سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

بحرین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق ایک ڈرون حملے میں سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے ڈی سیلینیشن پلانٹ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ ایک انٹرسیپٹ کی گئی میزائل کا ملبہ محرق کے علاقے میں واقع ایک یونیورسٹی کی عمارت پر گرنے سے عمارت کو نقصان پہنچا اور تین افراد زخمی ہو گئے۔ سِترا کے علاقے میں ہونے والے ایک اور ڈرون حملے میں درجنوں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

کویت میں ڈرون حملے اور آگ

کویت کی فوج نے بتایا کہ اس کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے کئی میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرایا۔ اس کے باوجود ایک ڈرون حملے میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے فیول ٹینکوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے باعث آگ لگ گئی۔ حکام کے مطابق آگ پر جلد قابو پا لیا گیا اور بڑے نقصان سے بچاؤ ہو گیا۔

ایک اور حملے میں کویت کے پبلک انسٹی ٹیوشن فار سوشل سکیورٹی کی بلند عمارت میں بھی آگ لگنے کی اطلاع ہے۔ سکیورٹی آپریشن کے دوران دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔

یو اے ای میں میزائل اور ڈرون ناکام بنائے گئے

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ حالیہ حملوں میں 16 بیلسٹک میزائلوں اور 120 سے زائد ڈرونز کا سراغ لگایا گیا جن میں سے بیشتر کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ دبئی میں ایک انٹرسیپٹ کیے گئے پروجیکٹائل کا ملبہ ایک گاڑی پر گرنے سے ایک ڈرائیور ہلاک ہو گیا۔

یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کے دوران کہا کہ ملک “جنگ کے دور سے گزر رہا ہے، مگر ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔”

سعودی عرب اور قطر میں بھی ہائی الرٹ

سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کے مطابق ریاض کے جنوب مشرق میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس کی طرف داغی گئی ایک بیلسٹک میزائل غیر آباد علاقے میں گر گئی۔ جبکہ شایبہ آئل فیلڈ کی جانب جانے والے چار ڈرونز کو بھی فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا۔

رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے الخَرج علاقے میں ایک پروجیکٹائل گرنے سے دو افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔ دوسری جانب قطر کی فوج نے بھی ایک میزائل حملہ ناکام بنانے کی تصدیق کی ہے۔

تیل کی منڈی اور فضائی آمدورفت متاثر

مسلسل حملوں کے باعث خلیجی خطے کے کئی ممالک نے احتیاطاً اپنے فضائی علاقے بند کر دیے ہیں یا پروازوں پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ کویت کی قومی آئل کمپنی نے پیداوار میں عارضی کمی کا اعلان کیا ہے۔ اسی دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پانی اور توانائی کے پلانٹس کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا تو خلیجی خطے میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ یہاں پینے کے پانی کا بڑا حصہ ڈی سیلینیشن پلانٹس سے حاصل کیا جاتا ہے۔

ایران نے ان حملوں کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اس کے خلاف کی گئی فوجی کارروائی کا جواب قرار دیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جزیرہ قشم پر واقع ایک آبی پلانٹ پر امریکی حملے کے بعد یہ کارروائی کی گئی، جس سے کئی دیہات کی پانی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا کہ اگر پڑوسی ممالک کی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کی گئی تو تہران “جواب دینے پر مجبور ہوگا۔”

مشرقِ وسطیٰ میں یہ جنگ اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور مسلسل پھیلتی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جلد کوئی سفارتی حل نہ نکالا گیا تو یہ تنازع پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور