مغربی ایشیا میں جاری تناؤ کے دوران خلیج کے خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے واضح اعلان کیا ہے کہ اس کی فضائی حدود کو کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اماراتی حکومت نے زور دیا کہ ملک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے اور خطے میں تصادم کے خدشات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یو اے ای کا یہ موقف اس بات کا اشارہ ہے کہ خلیجی ممالک کسی بھی براہِ راست جنگ سے خود کو الگ رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ اپنی سلامتی کے لیے مکمل طور پر چوکس ہیں۔
پاکستان کا متوازن پیغام
اسی دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ اسلام آباد اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ موجود ہے۔ ان کے اس بیان کو خطے میں طاقت کے توازن کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، پاکستان کی پوزیشن حساس ہے۔ ایک طرف اس کی ایران کے ساتھ لمبی سرحد اور ہمسایہ تعلقات ہیں، تو دوسری طرف سعودی عرب اس کے اہم اسٹریٹجک اور اقتصادی شراکت داروں میں شامل ہے۔ اس پس منظر میں یہ بیان ممکنہ بحران کی صورت حال میں پاکستان کی حکمتِ عملی کی ترجیحات کو واضح کرتا ہے۔
ہرمز پر امریکی نگرانی
ادھر امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فی الحال خلیج عمان اور آبنائے ہرمز میں کوئی ایرانی فوجی جہاز موجود نہیں ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، خطے میں سمندری راستے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل کو فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کی رسد کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔ دنیا کے تیل کی تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ کسی بھی فوجی حرکت کا براہِ راست اثر بین الاقوامی تیل کی قیمتوں اور عالمی مارکیٹوں پر پڑ سکتا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی چوکسی
خلیج کے ممالک نے حالیہ واقعات کے بعد اپنے دفاعی نظام کو الرٹ موڈ پر رکھا ہے۔ ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی کے اداروں کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ مغربی فوجی سرگرمیوں اور ایرانی اقدامات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فی الحال تمام فریق کھلی جنگ سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن بیانات اور فوجی تیاریوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حالات نہایت نازک ہیں۔ آنے والے دنوں میں سفارتی کوششیں اور بین الاقوامی مداخلت اس بحران کی شدت کا تعین کریں گی۔
مغربی ایشیا ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بن گیا ہے، جہاں ہر بیان اور ہر فوجی حرکت کا بین الاقوامی اثر دیکھا جا سکتا ہے۔