امریکہ–اسرائیل–ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان خلیجی ممالک نے اپنی عالمی سرمایہ کاری کی حکمت عملی پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال عالمی سرمایہ کاری کے بہاؤ اور مالیاتی مارکیٹوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
امریکہ میں سرمایہ کاری پر غور
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر امریکہ میں کیے گئے بڑے سرمایہ کاری منصوبوں اور مالیاتی معاہدوں کو محدود کرنے یا واپس لینے پر غور کر رہے ہیں۔ خلیج میں جاری سیاسی کشیدگی، توانائی کے شعبے میں ممکنہ کمی اور دفاعی اخراجات میں اضافہ ان ممالک کو اس سمت میں سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔
ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ متعدد معاہدوں میں ‘فورس میجور’ کی شقیں شامل ہیں، جن کے تحت مستقبل کے مالی وعدوں میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرمایہ کاری میں کمی کی گئی تو نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی مالیاتی مارکیٹیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
یو اے ای سے ایشیائی سرمایہ کاروں کی منتقلی
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دبئی میں قائم کچھ ایشیائی سرمایہ کار اپنے فنڈز کو محفوظ مالی مراکز جیسے سنگاپور اور ہانگ کانگ منتقل کر رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے دبئی اور ابوظہبی پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں نے سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھا دی ہے۔
سنگاپور کے ایک پراپرٹی وکیل کے مطابق دبئی میں موجود 20 ارب پتی کلائنٹس میں سے 6–7 نے اپنا سرمایہ سنگاپور منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ پہلے ٹیکس اور پالیسی کے فوائد ترجیح تھے، مگر اب سب سے زیادہ اہمیت حفاظت اور طویل مدتی استحکام کو حاصل ہے۔
مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاری کا اعتماد
ماہرین نے کہا کہ کچھ سرمایہ کار فوری طور پر کوئی قدم نہیں اٹھا رہے بلکہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یو اے ای کے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ مالیاتی ڈھانچہ مضبوط اور پائیدار ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کو قائم رکھنے کے لیے کافی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان صرف مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے نہیں، بلکہ وسیع سیاسی غیر یقینی صورتحال اور جنگ کے خطرے کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی تشویش کا بھی اشارہ ہے۔
عالمی معیشت پر اثر
خلیجی ممالک کی جانب سے سرمایہ کاری میں کمی سے عالمی سرمایہ کاری کے بہاؤ پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر توانائی، ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبوں میں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری کی حفاظت اب ٹیکس فوائد سے زیادہ ترجیح حاصل کر چکی ہے، جو مستقبل میں عالمی سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔