وسطی مشرق میں جاری تناؤ نے ایک نیا موڑ اختیار کر لیا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی فضائیہ نے تہران کے اہم ملکی ہوائی اڈے، مہرباد ایئرپورٹ، پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ رات بھر دھماکوں اور آگ کے شعلے شہر کے آسمان میں پھیلے رہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکوں کی آوازیں اتنی زوردار تھیں کہ گھروں کے شیشے لرز گئے اور کئی علاقوں میں آگ اور دھواں دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر ایئرپورٹ اور آس پاس کے علاقوں میں جلتے ہوئے طیاروں اور کالے دھویں کے بادلوں کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں 80 سے زائد جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور اہم فوجی ٹھکانوں، ہتھیاروں کے ذخائر اور کمان مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایئرپورٹ پر ایرانی سپاہ پاسداران کی قدس فورس کے تقریباً 16 طیارے براہِ راست حملے میں تباہ ہوئے۔
اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ حملہ ایران کے حمایتی پراکسی گروپوں اور ہتھیار کی سپلائی نیٹ ورک کو کمزور کرنے کے لیے کیا گیا۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر شہری یا سرحدی علاقے نشانہ بنے تو سخت جواب دیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس نے بیان دیا ہے کہ امریکہ اپنے “مطلوبہ ہدف” کو 4 سے 6 ہفتوں میں حاصل کر سکتا ہے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ جنگ طویل ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حملے سے وسطی مشرق کی سلامتی، توانائی کی منڈی اور عالمی سیاست متاثر ہو سکتی ہے۔ شہری خوفزدہ ہیں اور شہر میں ہنگامی خدمات متحرک ہیں۔