خلیجی جنگ: سائپرس پر ڈرون حملہ، برطانیہ اور فرانس نے فوجی تعیناتی بڑھا دی؛ بحیرہ روم میں جنگی جہاز اور فضائی دفاعی نظام فعال

مشرقی بحیرہ روم میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان سائپرس میں برطانوی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کے بعد برطانیہ اور فرانس نے اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی۔ واقعے کے فوراً بعد دونوں ممالک نے جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور جدید فضائی دفاعی نظام تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حملہ برطانوی فضائیہ کے اڈے آرف ایکروٹیری پر ہوا، جہاں ایک مبینہ ایرانی ساختہ ‘شاہید’ ڈرون رن وے کے نزدیک گر گیا۔ حکام کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن رن وے کو محدود نقصان پہنچا۔ سائپرس کے فضائی دفاعی نظام نے دو دیگر ڈرونز کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

برطانیہ کا فوری ردعمل

برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اسے “سنگین سلامتی کا چیلنج” قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی عملے اور ٹھکانوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ برطانیہ نے اپنی جدید ٹائپ ۴۵ تباہ کن جنگی جہاز ایچ ایم ایس ڈریگن کو مشرقی بحیرہ روم میں بھیج دیا ہے۔ اس کے ساتھ ‘وائلڈ کیٹ’ ہیلی کاپٹر اور اضافی فضائی دفاعی وسائل بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق یہ تعیناتی “دفاعی اور روک تھام کی نوعیت” کی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ڈرون یا میزائل خطرے کا فوری جواب دیا جا سکے۔

فرانس اور یونان کی حمایت

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے سائپرس کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائیڈیس سے بات چیت کے بعد اینٹی ڈرون اور اینٹی میزائل نظام بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ فرانسیسی بحریہ کا ایک فریگیٹ جنگی جہاز بھی علاقے میں پہنچ چکا ہے۔

یونان نے بھی سائپرس کی حمایت میں چار ایف-۱۶ لڑاکا طیارے اور دو فریگیٹ جہاز بھیجے ہیں۔ ایتھنز نے اسے “علاقائی استحکام برقرار رکھنے کا اقدام” قرار دیا ہے۔

بڑھتا جیوپولیٹیکل دباؤ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ مشرق وسطیٰ میں جاری وسیع فوجی تصادم کی بازگشت ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ٹھکانوں پر حملوں کے بعد علاقے میں تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ سائپرس، جو یورپ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے، اب اس تنازعے کے دائرے میں آ گیا ہے۔

برطانیہ نے واضح کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیا، لیکن اس کے فوجی اڈے اتحادی کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سلامتی کے ماہرین سائپرس کو ممکنہ جوابی کارروائیوں کے دائرے میں مان رہے ہیں۔

فی الحال سائپرس حکومت نے صورتحال کو “قابو میں” بتایا ہے، لیکن علاقے میں فوجی سرگرمیوں کی شدت نے بین الاقوامی برادری کی تشویش بڑھا دی ہے۔ نیٹو اور یورپی یونین کی جانب سے ابھی تک اجتماعی فوجی ردعمل کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا، تاہم سفارتی سطح پر مشاورت جاری ہے۔

مشرقی بحیرہ روم میں بڑھتی ہوئی فوجی تعیناتی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ علاقائی تنازع اب یورپی سلامتی کے توازن کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ بحران کس رخ میں جائے گا، دنیا کی نظریں اسی پر مرکوز ہیں۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور