ایک مسلم نوجوان لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ وہ ریلوے بھرتی کے امتحان کے لیے گجرات کے ایک امتحانی مرکز پہنچی، لیکن داخلے سے پہلے اس پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ مرد عملے کے سامنے حجاب اتارے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس کے بعد بھارت میں مذہبی آزادی اور امتحانی ضوابط پر بحث زور پکڑ گئی ہے۔
متاثرہ لڑکی نے کہا کہ امتحانی مرکز کے داخلی دروازے پر عملے نے کہا کہ وہ حجاب اتارے بغیر مرکز میں داخل نہیں ہو سکتی۔ یہ سب مرد عملے کی موجودگی میں ہوا، جس کی وجہ سے وہ خود کو شرمندہ محسوس کر رہی تھی۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب اس نے موقع پر موجود پولیس سے مدد طلب کی تو ایک خاتون پولیس افسر نے محض یہ کہہ کر اس کی بات ٹال دی: “اگر کہنا یہی ہے تو ہٹا دیجیے۔”
نوجوان لڑکی نے کہا کہ یہ معاملہ صرف اس کی ذاتی کہانی نہیں، بلکہ مسلم خواتین کے حقوق اور مذہبی آزادی کا معاملہ ہے۔ اس نے الزام لگایا کہ اس طرح کے رویے سے اس کی عزت اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہوئی۔ لڑکی نے یہ بھی کہا کہ اس نے امتحانی اتھارٹی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے بحث کا موضوع بن گیا ہے اور کئی شہریوں اور حقوق کے کارکنوں نے امتحانی مراکز میں مذہبی لباس کی اجازت اور کارروائی کے طریقہ کار کے لیے واضح ہدایات جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پہلے بھی مختلف امتحانی بورڈز نے مذہبی لباس جیسے حجاب کی اجازت دی ہے، بشرطیکہ جانچ نجی اور خاتون عملے کے ذریعے کی جائے۔
اس معاملے پر نہ تو ریلوے بھرتی بورڈ کی جانب سے کوئی سرکاری بیان آیا ہے اور نہ ہی گجرات پولیس کی طرف سے کوئی واضح ردعمل ملا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تفتیش اور رسمی جواب کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے۔