انصاف ٹائمس ڈیسک
باگیشور دھام کے سربراہ پنڈت دھیرندرا کرشن شاستری، جنہیں بابا باگیشور کے نام سے جانا جاتا ہے، خصوصی طیارے کے ذریعے گیا ہوائی اڈے پہنچے۔ سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان انہیں براہِ راست بودھگیا میں واقع سنبودھی ریزورٹ لے جایا گیا، جہاں وہ آئندہ چار دن قیام کریں گے۔
پترپکش کے اس موقع پر بابا باگیشور نے تریپنڈی شرادھ، پنڈدان اور تربن جیسے مذہبی مراسم منعقد کیے۔ محدود تعداد میں عقیدت مندوں نے ان پروگراموں میں شرکت کی اور بابا سے آشیرواد حاصل کیا۔
اپنے قیام کے دوران بابا باگیشور نے کئی اہم اور کئی متنازعہ باتیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پہلے ہی غیر رسمی طور پر ہندو رياست ہے اور اسے باقاعدہ طور پر ہندو رياست قرار دیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے وہ 7 سے 16 نومبر تک دہلی سے برنداون تک پیدل مارچ کریں گے تاکہ یہ پیغام ہر فرد تک پہنچایا جا سکے۔
انہوں نے تعلیم اور صحت جیسی بنیادی خدمات کے مفت ہونے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا، “آج اس ملک میں شراب سستی اور دوائیاں مہنگی ہیں۔ اگر تعلیم اور صحت مفت ہوں گی، تبھی بھارت عالمی رہنما بن سکے گا۔”
نیپال میں وزیر اعظم نریندر مودی کے استقبال کو بے مثال قرار دیتے ہوئے بابا نے کہا کہ یہ سماجی ہم آہنگی کی علامت ہے اور ملک کی حالت سے ہوشیار رہنا ضروری ہے۔
بابا باگیشور اپنے گیا قیام کے دوران پترپکش کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے عقیدت مندوں کو مذہبی مراسم میں شرکت کی دعوت دے رہے ہیں۔ 7 سے 16 نومبر تک منعقد ہونے والی پیدل مارچ میں وہ ہندو رياست اور سناتنی ثقافت کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں گے۔