بہار میں پل گرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے درمیان ایک اور سنگین حادثہ پیش آیا ہے۔ ریاست کے ضلع گوپال گنج کی سدھوالیا بلاک کے گنگوا گاؤں میں دریائے گھوگھاری پر زیرِ تعمیر آر سی سی پل سلیب کی ڈھلائی کے دوران اچانک زمین بوس ہو گیا۔ تقریباً 29 میٹر طویل اس پل کی تعمیر 2 کروڑ 89 لاکھ 21 ہزار روپے کی لاگت سے جاری تھی۔
عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے وقت پل کے اوپری حصے پر کنکریٹ ڈالا جا رہا تھا کہ اچانک زوردار آواز سنائی دی اور پورا ڈھانچہ تاش کے پتوں کی طرح گر پڑا۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر یہ واقعہ پل کے افتتاح کے بعد پیش آتا تو بڑے پیمانے پر جانوں کا ضیاع ممکن تھا۔
حادثے کے بعد بڑی تعداد میں دیہاتی جائے وقوعہ پر جمع ہو گئے اور تعمیراتی معیار پر سوالات اٹھائے۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ سیمنٹ اور ریت کے آمیزے میں مقررہ معیار کی پابندی نہیں کی گئی اور مضبوطی کے لیے معیاری سریے کے بجائے کمزور مواد استعمال ہوا۔ بعض افراد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سینٹرنگ اور سپورٹ سسٹم مطلوبہ حد تک مضبوط نہیں تھا جس کے باعث ڈھلائی کا وزن برداشت نہ ہو سکا۔
ضلع مجسٹریٹ پون کمار سنہا نے موقع پر پہنچ کر معائنہ کیا۔ ابتدائی جانچ کے بعد ایگزیکٹو انجینئر، اسسٹنٹ انجینئر اور جونیئر انجینئر کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ متعلقہ ٹھیکیدار کمپنی کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں زمین کے مناسب کمپیکشن میں کمی اور سینٹرنگ میں استعمال ہونے والے آئرن بیس میں زنگ کی موجودگی سامنے آئی ہے۔ ماہرین نے سیمنٹ، سریا اور دیگر تعمیراتی مواد کے نمونے جانچ کے لیے روانہ کر دیے ہیں اور تفصیلی رپورٹ محکمہ دیہی تعمیرات کو پیش کی جائے گی۔
یاد رہے کہ بہار میں گزشتہ برسوں کے دوران پل گرنے کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ جون 2023 میں سلطان گنج-اگووانی گھاٹ پل کا ایک حصہ دریائے گنگا میں گر گیا تھا، جبکہ اگست 2023 میں اسی پل کا دوسرا حصہ بھی منہدم ہو گیا۔ جون 2024 میں ارریہ ضلع کے قریب زیرِ تعمیر ایک پل افتتاح سے قبل ہی گر گیا تھا۔
ان مسلسل حادثات نے تعمیراتی ایجنسیوں کی کارکردگی اور معیارِ نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی باشندوں نے اعلیٰ سطحی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کروڑوں روپے کے منصوبے بدانتظامی اور مبینہ بدعنوانی کی نذر ہوتے رہے تو عوام کا اعتماد مجروح ہوگا۔
فی الحال تعمیراتی کام روک دیا گیا ہے اور انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مکمل رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔