بہار کے گیا ضلع کے گیاجی میونسپل کارپوریشن سے ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے۔ وارڈ نمبر 34 کی خاتون پارشد شیلا دیوی کو سرکاری ریکارڈ میں “مردہ” قرار دے دیا گیا، جس کے باعث ان کی بیوہ پینشن اچانک بند ہوگيا۔ اب شیلا دیوی اور ان کے اہل خانہ کو خود کو زندہ ثابت کرنے کے لیے انتظامی دفاتر کے چکر کاٹنے پڑ رہے ہیں۔
تین سال قبل انتظامی جانچ کے بعد شیلا دیوی کو مردہ مان لیا گیا تھا۔ اس کے باوجود وہ میونسپل کارپوریشن کے کاموں میں سرگرم رہیں، دستاویزات پر دستخط کرتی رہیں اور وارڈ کے کاموں میں حصہ لیتی رہیں۔ یہ غلطی اس وقت سامنے آئی جب ان کی بیوہ پینشن اچانک ان کے اکاؤنٹ میں نہیں آئی۔
شیلا دیوی نے بتایا، “شوہر کی موت کے بعد سے میں بیوہ پینشن حاصل کر رہی تھی۔ اچانک پینشن بند ہوگئی، اور جب میں پرکھنڈ دفتر گئی تو پتہ چلا کہ سرکاری ریکارڈ میں مجھے مردہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ انتظامیہ کی شدید لاپروائی ہے۔”
ان کے بیٹے اور پارشد نمائندہ، اوم یادو نے کہا، “جب ہم کے وائی سی کروانے گئے، تو ملازمین نے بتایا کہ رپورٹ میں ماں کی موت درج ہے۔ ہم بھی اس بڑی غلطی سے حیران رہ گئے۔”
شیلا دیوی نے ضلع افسر (DM) کو تحریری درخواست دے کر قصوروار اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور نظام میں تکنیکی خامیوں کی جانچ کی مانگ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر گھر آئے اور بغیر درست جانچ کے کسی شہری کو مردہ قرار دینا شدید انتظامی لاپروائی ہے۔
مقامی لوگ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ایک سرگرم اور باقاعدگی سے سرکاری کاموں میں شامل وارڈ نمائندہ کو مردہ قرار دیا جا سکتا ہے، تو عام شہریوں کی حفاظت اور ان کے فوائد کی کیا ضمانت ہوگی۔