انصاف ٹائمس ڈیسک
بہار کی آرا لوک سبھا سیٹ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سابق رکن پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر آر کے سنگھ نے پارٹی سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے نئی سیاسی سمت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ایک پروگرام میں کہا کہ اگر راجپوت سماج کو مناسب نمائندگی نہیں ملی تو وہ نئی پارٹی بنانے پر غور کریں گے۔
آر کے سنگھ نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور اس کے اعلیٰ قیادت نے راجپوت سماج کو مسلسل نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں انہیں جان بوجھ کر کمزور کیا گیا اور پارٹی کے کچھ رہنماؤں نے انہیں ہرانے کی سازش کی۔ اس پر ناراض ہو کر انہوں نے بی جے پی سے دوری اختیار کرنے کا عندیہ دیا۔
اپنے حامیوں سے مشاورت کے بعد، آر کے سنگھ نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو وہ نئی پارٹی بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “آپ لوگ سنجیدگی سے غور کریں اور فیصلہ بتائیں۔” اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ نئی سیاسی سمت کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔
آر کے سنگھ نے راجپوت سماج کی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک سماج متحد نہیں ہوگا، اسے اس کا حق نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر سماجوں کی طرح راجپوت سماج کو بھی متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی۔
تاہم، آر کے سنگھ نے واضح کیا کہ وہ آئندہ بہار اسمبلی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد انتخابی سیاست میں حصہ لینا نہیں بلکہ سماج کے لیے بہتر قیادت فراہم کرنا ہے۔
آر کے سنگھ کی ناراضگی اور نئی پارٹی بنانے کی ممکنہ کوشش سے بہار کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس اقدام سے بی جے پی کو آئندہ انتخابات میں چیلنج مل سکتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے ابھی تک نئی پارٹی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، لیکن ان کے بیانات سے یہ واضح ہے کہ وہ نئی سیاسی سمت کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔
بہار کی سیاست میں آر کے سنگھ کا کردار اہم رہا ہے، اور ان کی نئی سیاسی شروعات سے ریاست کی سیاسی سمت میں تبدیلی آ سکتی ہے۔