الیکشن کمیشن نے ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق آسام، کیرالہ اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری میں 9 اپریل کو ووٹنگ کرائی جائے گی۔ جبکہ تمل ناڈو میں 23 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ دوسری طرف مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں 23 اپریل اور 29 اپریل کو ووٹنگ کرائی جائے گی۔
تمام ریاستوں کے ووٹوں کی گنتی 4 مئی 2026 کو ہوگی اور اسی دن انتخابی نتائج بھی جاری کیے جائیں گے۔ انتخابی پروگرام کے اعلان کے ساتھ ہی ان ریاستوں میں ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ نافذ ہو گیا ہے اور سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم تیز کر دی ہے۔
مغربی بنگال: ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان بڑا مقابلہ
294 رکنی مغربی بنگال اسمبلی کی مدت 7 مئی 2026 کو ختم ہونے جا رہی ہے۔ اس وقت ریاست میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت میں آل انڈیا ترنمول کانگریس کی حکومت ہے۔
سال 2021 کے اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس نے 294 میں سے 213 نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی تھی، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو 77 نشستیں ملی تھیں۔
اس بار بھی ریاست میں اصل مقابلہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مانا جا رہا ہے۔ تاہم انتخابی میدان میں بائیں بازو کی جماعتوں کا اتحاد بھی سرگرم نظر آ رہا ہے۔ اس اتحاد میں خاص طور پر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور دیگر بائیں بازو کی پارٹیاں شامل ہیں، جو ریاست میں اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں- سیاسی حلقوں میں یہ بھی بحث ہے کہ اس بائیں بازو کے اتحاد کے ساتھ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا اور آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) جیسے جماعتوں کے ممکنہ تعاون پر بات چیت جاری ہے، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق ابھی نہیں ہوئی ہے۔
دوسری طرف انڈین نیشنل کانگریس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس بار بائیں بازو کی جماعتوں سے الگ ہو کر انتخاب لڑ سکتی ہے، جس سے مقابلہ مزید کثیر رخی ہونے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سمیت کچھ دیگر چھوٹی جماعتیں بھی انتخابی میدان میں اتر سکتی ہیں۔
کیرالہ: ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف کے درمیان روایتی مقابلہ
کیرالہ کی سیاست طویل عرصے سے دو بڑے اتحادوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ریاست میں اس وقت لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کی حکومت ہے جس کی قیادت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کر رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) ہے جس کی قیادت انڈین نیشنل کانگریس کے ہاتھ میں ہے اور یہی ریاست کا اہم اپوزیشن اتحاد مانا جاتا ہے۔
ان دونوں بڑے اتحادوں کے علاوہ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی ریاست میں اپنی سیاسی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہیں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا بھی کچھ نشستوں پر امیدوار کھڑا کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
تمل ناڈو: ڈی ایم کے اتحاد بمقابلہ اے آئی اے ڈی ایم کے
تمل ناڈو کی سیاست بنیادی طور پر دو بڑے دراوڑیائی جماعتوں کے ارد گرد گھومتی ہے۔ اس وقت ریاست میں اقتدار دراوڑ منیترا کڑگم (ڈی ایم کے) کے پاس ہے۔ ڈی ایم کے کی قیادت والے اتحاد میں انڈین نیشنل کانگریس سمیت کئی اتحادی جماعتیں شامل ہیں اور اب ایس ڈی پی آئی کے ساتھ بھی سیٹ شیئرنگ پر بات چیت ہو رہی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن کیمپ میں انا دراوڑ منیترا کڑگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتخابی تال میل کی باتیں ہو رہی ہیں، جو برسر اقتدار اتحاد کو چیلنج دینے کی کوشش کرے گا۔
آسام اور پڈوچیری میں بھی سخت مقابلہ
آسام میں 9 اپریل کو ووٹنگ ہوگی جہاں اقتدار کے لیے کانگریس اور بی جے پی جیسے قومی جماعتوں کے ساتھ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) جیسے علاقائی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
وہیں پڈوچیری میں بھی مقامی اور قومی جماعتوں کے درمیان اتحاد کی سیاست کی بنیاد پر انتخابات لڑے جانے کا امکان ہے۔
4 مئی کو آئیں گے انتخابی نتائج
ان پانچوں ریاستوں میں ووٹنگ کا عمل اپریل میں مکمل ہو جائے گا اور 4 مئی 2026 کو ووٹوں کی گنتی کے ساتھ نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ اسی دن یہ واضح ہو جائے گا کہ کن جماعتوں یا اتحادوں کو عوام کا مینڈیٹ ملا ہے اور کن کے ہاتھوں میں ان ریاستوں کی اقتدار جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان انتخابات کے نتائج نہ صرف ان ریاستوں کی سیاست بلکہ ملک کی وسیع تر سیاسی سمت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔