دہلی کے ترکمان گیٹ–رام لیلا میدان علاقے میں واقع صدی پرانی فیضِ الٰہی مسجد کے قریب بدھ کی علی الصبح میونسپل کارپوریشن کی انہدامی کارروائی اُس وقت کشیدہ ہو گئی جب مقامی لوگوں نے اس کی مخالفت کی۔ حالات بگڑنے پر پولیس کو آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا اور 10 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس دوران مبینہ پتھراؤ میں پانچ پولیس اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں۔
دہلی پولیس کے مطابق، یہ انہدامی مہم دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات کے تحت میونسپل کارپوریشن دہلی (ایم سی ڈی) کی جانب سے چلائی جا رہی تھی۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) ندھِن ولسن نے بتایا کہ تقریباً 25 سے 30 افراد نے پولیس ٹیم پر پتھراؤ کیا، جس کے بعد صورتحال پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کا سہارا لینا پڑا۔
ڈی سی پی نے کہا، “صورتحال اب مکمل طور پر قابو میں ہے۔ ایک بینکوئیٹ ہال اور ایک ڈسپنسری کو منہدم کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی رات کے وقت اس لیے کی گئی تاکہ عام لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو۔” انہوں نے مزید کہا کہ مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق، نامعلوم افراد کے خلاف فساد، سرکاری ملازم پر حملہ اور سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے جیسی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ حراست میں لیے گئے 10 افراد سے تفتیش جاری ہے۔
جوائنٹ کمشنر آف پولیس (سینٹرل رینج) مادھُر ورما نے بتایا کہ کارروائی سے قبل مقامی کمیٹی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ تال میل کی میٹنگز کی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا، “تمام احتیاطی اور اعتماد سازی کے اقدامات کے باوجود کچھ شرارتی عناصر نے مبینہ طور پر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی۔ کم سے کم طاقت کے استعمال سے حالات پر قابو پا لیا گیا۔”
دہلی پولیس کے مطابق، امن و امان برقرار رکھنے کے لیے علاقے کو نو زونز میں تقسیم کیا گیا تھا، جن کی نگرانی اضافی ڈی سی پی سطح کے افسران کر رہے تھے۔ اس مہم میں تقریباً 20 بلڈوزرز لگائے گئے تھے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ واقعے کے کچھ ہی دیر بعد علاقے میں معمول کی صورتحال بحال ہو گئی۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب معاملہ ابھی عدالت میں زیرِ غور ہے۔ منگل کے روز دہلی ہائی کورٹ نے مسجد سید فیضِ الٰہی کی انتظامی کمیٹی کی عرضی پر ایم سی ڈی، دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے)، وزارتِ شہری ترقی، پی ڈبلیو ڈی اور دہلی وقف بورڈ سے جواب طلب کیا تھا۔
عرضی میں کمیٹی نے کہا ہے کہ اسے تجاوزات ہٹانے پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم مسجد سے متصل قبرستان کے تحفظ کے لیے عدالتی مداخلت ضروری ہے۔ کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ مسجد اور اس سے منسلک ڈھانچے 100 سال سے زائد پرانے ہیں، زمین دہلی وقف بورڈ کے تحت آتی ہے اور اس کے لیے لیز فیس ادا کی جاتی رہی ہے۔ ان کے مطابق، مجوزہ کارروائی سے مذہبی اور سماجی سہولیات، بالخصوص قبرستان، کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
جسٹس امت بنسل نے معاملے کو “قابلِ غور” قرار دیتے ہوئے متعلقہ ایجنسیوں کو چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 22 اپریل کو ہوگی۔
قابلِ ذکر ہے کہ ایم سی ڈی نے 22 دسمبر 2025 کے حکم میں 0.195 ایکڑ سے زائد رقبے پر بنے ڈھانچوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کے قابل بتایا تھا، جس میں مسجد بھی شامل ہے۔ یہ کارروائی 12 نومبر 2025 کے ہائی کورٹ کے اس حکم کے بعد کی جا رہی ہے، جس میں ترکمان گیٹ کے قریب رام لیلا میدان علاقے میں تقریباً 38,940 مربع فٹ مبینہ تجاوزات ہٹانے کے لیے تین ماہ کی مہلت دی گئی تھی۔