الیکشن کمیشن نے ریاستوں کو 30 ستمبر تک ایس آئی آر کی تیاری کا حکم دیا، اکتوبر۔نومبر میں ملک گیر خصوصی گہری نظرثانی شروع ہونے کے آثار

انصاف ٹائمس ڈیسک

الیکشن کمیشن نے تمام ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کے چیف الیکشن افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ 30 ستمبر 2025 تک خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کی تیاری مکمل کرلیں۔ کمیشن کی اس ہدایت سے اشارہ مل رہا ہے کہ ملک گیر ایس آئی آر کا عمل اکتوبر۔نومبر میں شروع ہوسکتا ہے۔

کمیشن نے ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ پچھلی ایس آئی آر کے بعد شائع ہونے والی ووٹر لسٹیں تیار رکھیں اور اپنی ویب سائٹس پر دستیاب کرائیں۔ دہلی اور اتراکھنڈ کے چیف الیکشن افسران نے پہلے ہی اپنی پرانی ووٹر لسٹیں آن لائن ڈال دی ہیں۔ دہلی کی ویب سائٹ پر 2008 کی لسٹ اور اتراکھنڈ کی ویب سائٹ پر 2006 کی لسٹ موجود ہے۔ بہار میں 2003 کی ووٹر لسٹ کی بنیاد پر ایس آئی آر کا عمل جاری ہے۔

الیکشن کمیشن نے حال ہی میں نئی دہلی میں ریاستی چیف الیکشن افسران کے اجلاس میں کہا تھا کہ تمام ریاستیں اگلے 10 سے 15 دنوں میں ایس آئی آر نافذ کرنے کے لیے تیار رہیں۔ اس کے بعد وضاحت کے لیے 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن طے کی گئی ہے۔

بہار میں جاری ایس آئی آر کے پہلے مرحلے میں تقریباً 99.8 فیصد ووٹرز کی گنتی مکمل ہوچکی ہے۔ اس دوران 60.5 لاکھ نام ہٹا دیے گئے جبکہ ڈرافٹ رول میں 65 لاکھ سے زائد نام شامل نہیں کیے گئے۔ ان اعداد و شمار کو لے کر سیاسی حلقوں میں تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل کو “نام خارج کرنے کی مشق” قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔

بہار میں اٹھے تنازع کے بعد اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ نے الیکشن کمیشن پر جمہوریت کو کمزور کرنے کا الزام لگایا تھا۔ وہیں، سپریم کورٹ نے بھی کہا ہے کہ اگر ایس آئی آر کے عمل میں کوئی سنگین بے ضابطگی پائی گئی تو وہ پوری ووٹر لسٹ کو منسوخ کرسکتا ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ شفافیت برقرار رکھے اور حذف کیے گئے ناموں کی وجہ واضح کرے۔

مغربی بنگال، اڈیشہ اور دیگر ریاستوں میں بوتھ سطح کے افسران (BLO) کی ٹریننگ اور تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ اڈیشہ میں 24 سال بعد ایس آئی آر کی تیاری کی جارہی ہے اور پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 45,000 تک بڑھانے کی تجویز ہے۔

خصوصی گہری نظرثانی کا مقصد ووٹر لسٹ کو اپ ڈیٹ اور بے عیب بنانا ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ 2026 میں آسام، کیرالہ، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور پنڈوچیری میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور