انصاف ٹائمسے ڈیسک
انگریزی اور غیر ملکی زبانوں کی یونیورسٹی (EFLU) حیدرآباد میں منگل کی شام طلبہ کی جانب سے منعقدہ فلسطین یکجہتی مارچ کے بعد کیمپس میں کشیدگی پھیل گئی۔ یہ مارچ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کی طرف سے ساگر اسکوائر پر پُرامن انداز میں منعقد کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق، مارچ کے اختتام کے فوراً بعد اے بی وی پی (ABVP) کے کارکن وہاں پہنچ گئے اور فلسطین کے جھنڈے اور پوسٹر پھاڑتے ہوئے نعرے بازی شروع کر دی۔ اس کے بعد ماحول اچانک گرما گیا اور دونوں گروپوں کے درمیان تنازعہ اور ہاتھاپائی کی نوبت آ گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق، ABVP کے ارکان نے دیگر طلبہ کے ساتھ دھکا مکی اور بدتمیزی کی۔ موقع پر پہنچی پولیس نے، طلبہ کے الزام کے مطابق، ABVP کی توڑ پھوڑ اور حملے کو نظرانداز کرتے ہوئے فلسطین یکجہتی سے متعلق تمام پوسٹرز اور جھنڈے ہٹانے کا حکم دیا۔
طلبہ نے الزام لگایا ہے کہ پولیس کی موجودگی میں ABVP کارکنوں نے ایک طالب علم کو گھسیٹ کر گرایا جو کیفیہ (Keffiyah) پہنے ہوئے تھا، اور بعد میں پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔
اس کارروائی کے خلاف طلبہ نے مین گیٹ کی طرف مارچ کیا جہاں صورتحال مزید بگڑ گئی۔ اسٹوڈنٹس یونین کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پولیس نے بے تحاشا طاقت کا استعمال کیا، مرد پولیس اہلکاروں نے خواتین طالبہ رہنماؤں — جن میں یونین کی نائب صدر اور جوائنٹ سکریٹری شامل تھیں — کے ساتھ بدسلوکی اور نازیبا زبان استعمال کی۔
ایک چشم دید گواہ کے مطابق، ایک پولیس افسر نے ہجوم کو منتشر کرنے کے دوران اپنا اسلحہ لہرا کر دھمکایا، جس سے طلبہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
بعد ازاں پولیس نے پوری یونیورسٹی میں نفری تعینات کر دی، جس سے کیمپس کا ماحول کرفیو جیسا ہو گیا۔ طلبہ کو زبردستی ان کے ہاسٹلز میں بھیج دیا گیا اور کئی کو ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
طلبہ برادری نے اس واقعے کو “سیاسی جانبداری اور ریاستی جبر” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کی کارروائی نے ان کے پُرامن احتجاج کے حق پر براہِ راست حملہ کیا ہے۔