انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) نے دہلی اور نیشنل کیپیٹل ریجن (NCR) میں الفلاح یونیورسٹی سے وابستہ 25 مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ریڈ فورٹ کار بلاسٹ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی، جس میں یونیورسٹی سے متعلق کچھ ڈاکٹروں کے نام بھی سامنے آئے تھے۔
الفلاح گروپ کے بانی اور یونیورسٹی کے صدر جواد احمد صدیقی کو ED نے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ ایجنسی نے ان کی حراست میں مالیاتی دستاویزات، ڈیجیٹل آلات اور تقریباً ₹48 لاکھ نقدی بھی قبضے میں لے لی ہے۔
ای ڈی کا الزام ہے کہ یونیورسٹی اور اس سے منسلک ٹرسٹ نے 2018-19 سے 2024-25 کے دوران طلبہ سے جمع کی گئی ₹415 کروڑ کی رقم کو خاندان کی کمپنیوں میں منتقل کیا۔ اس کے علاوہ ٹھیکے اور دیگر وسائل بھی شیل کمپنیوں کے ذریعے خاندان کی ملکیت میں منتقل کیے گئے۔
تعلیمی ریگولیٹری اداروں کی جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ یونیورسٹی نے NAAC اور UGC کی منظوری کے دعوے جھوٹے طریقے سے پیش کیے۔ UGC نے واضح کیا کہ یونیورسٹی صرف Section 2(f) کے تحت آتی ہے اور کبھی 12(B) کی منظوری کے لیے اہل نہیں تھی۔ NAAC نے یونیورسٹی کو شو-کاز نوٹس بھی جاری کیا ہے۔
ای ڈی کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ رقم “غیر قانونی طور پر حاصل شدہ فنڈز” میں شامل ہے اور ایجنسی یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا اس کا کچھ حصہ دہشت گردی سے متعلق ملزمان تک پہنچا ہے۔ یونیورسٹی کے دو ڈاکٹر — ڈاکٹر عمر نبی اور ڈاکٹر مزمل گنائی — بھی اسی تحقیقات کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔
اس کارروائی کے بعد یونیورسٹی کے طلبہ اور اسٹاف میں تشویش اور غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی نے میڈیا ٹرائل اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیمپس میں کوئی خطرناک کیمیکلز موجود نہیں اور تمام لیب سرگرمیاں قواعد کے مطابق جاری ہیں۔
اس واقعے کے بعد یونیورسٹی کی ساکھ اور علمی معیار پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ای ڈی کی مزید تفتیش، عدالتی سماعت اور مالیاتی آڈٹ سے اس معاملے کی سمت واضح ہو گی۔