ملک کے دارالحکومت نئی دہلی میں واقع دِلی یونیورسٹی کے نارتھ کیمپس میں یو جی سی کی نئی گائیڈلائنز کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک ویڈیو تنازع کا سبب بن گئی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے قومی سطح پر بحث چھیڑ دی۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں ’پانی‘ سے متعلق کیا گیا تبصرہ 1927 میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی قیادت میں ہونے والی مہاڑ ستیہ گرہ کی جدوجہد کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اس تحریک کا مقصد دلتوں کو عوامی آبی ذخائر سے پانی لینے کا حق دلانا تھا۔
نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے متعلقہ یوٹیوبر نے دعویٰ کیا کہ انہیں دھمکیاں دی گئیں اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ دوسری جانب طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد نے یوٹیوبر کی حمایت میں بیان جاری کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی ہے۔
ادھر فیکٹ چیکر اور سماجی کارکن محمد زبیر نے سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سوالات جان بوجھ کر اشتعال انگیز انداز میں کیے گئے۔
واقعے کے بعد دِلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر یوگیش سنگھ نے تمام فریقین سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس نے معاملے میں ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ کیمپس میں اضافی سیکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے۔