انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (آئی او ایس) کے چیئرمین اور آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم کے انتقال پر ملک بھر کے تعلیمی، سماجی اور فکری حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کے وصال کو نہ صرف مسلم سماج بلکہ تعلیم، تحقیق اور سماجی انصاف کے میدان میں ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے نیشنل وائس پریزیڈنٹ محمد شفیع نے جاری اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم ایک دوراندیش عالم، ادارہ ساز اور تعلیم و سماجی انصاف کے تاحیات علمبردار تھے۔ ان کی قیادت میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز نے بنیادی اور اطلاقی تحقیق کے شعبے میں اہم خدمات انجام دیں اور سماجی حقائق، اقلیتی مسائل اور ترقی سے وابستہ چیلنجز پر معروضی مطالعے کو فروغ دیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم کی رہنمائی میں آئی او ایس ایک معتبر فکری پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا، جہاں علما، دانشوروں اور پالیسی سازوں کے درمیان علم، اخلاقیات اور حقائق پر مبنی مکالمے کو تقویت ملی۔ تعلیم کے میدان میں ان کی سب سے نمایاں خدمات میں روایتی اور جدید تعلیم کے درمیان پل قائم کرنا شامل ہے۔ وہ مدارس کی جدید کاری کے مضبوط حامی تھے اور ساتھ ہی ان کی اخلاقی اور فکری روایات کے تحفظ پر بھی زور دیتے تھے۔
آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے ڈاکٹر منظور عالم نے برادری سے جڑے مسائل کو جمہوری اور آئینی طریقوں سے اجاگر کرنے، سماجی ہم آہنگی، تحمل اور مکالمے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ تعلیم، مکالمہ اور تعمیری شراکت کے بغیر کسی بھی معاشرے کی ترقی ممکن نہیں۔
تعزیتی بیان میں کہا گیا کہ ڈاکٹر منظور عالم کی زندگی انکساری، فکری سنجیدگی اور انصاف، شمولیت اور قومی ترقی کے تئیں غیر متزلزل وابستگی کی علامت رہی۔ اگرچہ ان کا جانا ایک ایسی خلا چھوڑ گیا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں ہوگا، تاہم ان کے افکار، ادارے اور خدمات آئندہ نسلوں کے لیے مسلسل باعثِ تحریک رہیں گے۔
محمد شفیع نے مرحوم عالم کے اہلِ خانہ، رفقائے کار، طلبہ اور ان سے متاثر ہونے والے تمام افراد سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم کی وراثت علم، اصلاح اور سماجی ہم آہنگی کے راستے پر ملک اور معاشرے کی رہنمائی کرتی رہے گی۔