اِنصاف ٹائمس ڈیسک
دہلی یونیورسٹی (DU) نے اپنے ماسٹرز (MA) سنسکرت نصاب کے تیسرے سیمسٹر سے متنازعہ کتاب ‘منوسمرتی’ کو ہٹا کر اس کی جگہ ‘شکرنیتی’ کو شامل کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر یوگیش سنگھ نے اپنی ہنگامی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس تبدیلی کو 12 ستمبر کو ہونے والے یونیورسٹی ایگزیکٹو کونسل (EC) کے اجلاس میں حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
‘منوسمرتی’ کو سماجی اور تعلیمی حلقوں میں متنازعہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس میں موجود ذات پات کے نظام اور خواتین کے حوالے سے امتیازی ہدایات ہیں۔ ماہرین اور سماجی تنظیمیں مانتی ہیں کہ اس کو نصاب میں شامل کرنا جدید معاشرے کے انصاف اور مساوات کے اصولوں کے خلاف ہے۔ پچھلے مواقع پر بھی قانون اور تاریخ جیسے مضامین میں اس کو شامل کرنے کی کوششوں پر شدید احتجاج ہوا تھا۔
اب طلباء کو ‘منوسمرتی’ کی جگہ رشمی شکرآچاریہ کے لکھے ہوئے ‘شکرنیتی’ کا مطالعہ کروایا جائے گا۔ اس نصاب میں قدیم ہندوستانی حکمرانی کا نظام، اخلاقیات، قومی تحفظ، فوجی حکمت عملی اور سماجی اصول جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔ اس کا مقصد طلباء کو قدیم انتظامی ماڈل اور اخلاقی حکمرانی کے اصولوں سے واقف کروانا ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر یوگیش سنگھ نے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں اگر ‘منوسمرتی’ کو نصاب میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی تو انتظامیہ فوری کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا، “ہمارا موقف واضح ہے، یہ کتاب یونیورسٹی میں نہیں پڑھائی جائے گی۔”