دیانیدی مارن کا متنازع بیان: ‘شمالی بھارت کی لڑکیاں صرف گھر تک محدود رہتی ہیں’، مظفرپور میں کیس درج

تمل ناڈو کے ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ دیانیدی مارن کے متنازع بیان نے بہار میں ہلچل مچا دی ہے۔ رکن پارلیمنٹ کے خلاف مظفرپور کی مقامی عدالت میں شکایت دائر کی گئی ہے۔

وکیل سُدھیری کمار اوجھا نے عدالت میں کہا کہ 15 جنوری کو دیے گئے بیان میں مارن نے شمالی بھارت کی خواتین کے حوالے سے قابل اعتراض اور توہین آمیز تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی بھارت کی لڑکیاں صرف گھر اور باورچی خانے تک محدود رہتی ہیں، جبکہ تمل ناڈو کی لڑکیوں کو تعلیم اور کیریئر کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ مارن کے بیان سے شمالی بھارتی خواتین کی سماجی شبیہ کو نقصان پہنچا اور ان کی عزت کی توہین ہوئی ہے۔ اوجھا نے کہا، “یہ بیان سن کر مجھے ذہنی صدمہ ہوا، ہم خود کو توہین محسوس کر رہے ہیں۔”

شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈی ایم کے رہنماؤں کے بیانات آئندہ اسمبلی انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش معلوم ہوتے ہیں۔

دیانیدی مارن کے خلاف بھارتی تعزیرات کی دفعہ 74، 75، 79، 192، 298، 352 اور 251(2) کے تحت کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔ عدالت نے شکایت کو قبول کرتے ہوئے اگلی سماعت 22 جنوری کے لیے مقرر کی ہے۔

بی جے پی رہنما دلیپ جیسوال نے کہا، “اس طرح کے بیانات علاقائی ہم آہنگی اور سماجی اتحاد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ملک بھر میں اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ یہ معاملہ اب انتخابی موسم میں سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔”

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور