دادری لنچنگ کیس: عدالت نے یوپی حکومت کی الزامات ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی! اگلی سماعت 6 جنوری 2026 کو ہوگی

دادری کے محمد اخلاق قتل کیس میں منگل کو ایک اہم موڑ آیا۔ سورجپور ضلعی عدالت نے اتر پردیش حکومت کی درخواست مسترد کر دی، جس میں ملزمان کے خلاف تمام فوجداری الزامات ہٹانے کی استدعا کی گئی تھی۔

عدالت نے درخواست کو قانونی بنیاد سے خالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سنگین معاملے میں الزامات ہٹانے کی کوئی ٹھوس وجہ موجود نہیں ہے۔ جج نے حکم دیا کہ کیس کو سب سے اہم کے طور پر نشان زد کیا جائے اور سماعت روزانہ کی بنیاد پر جاری رکھی جائے۔ عدالت نے حکومت اور پولیس کو تمام شواہد محفوظ رکھنے اور گواہوں کی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی۔

28 ستمبر 2015 کو بسہرہ گاؤں میں ایک ہجوم نے 50 سالہ محمد اخلاق پر حملہ کیا تھا۔ افواہ پھیل گئی تھی کہ انہوں نے گھر میں گائے کا گوشت رکھا اور عید کے بعد کھایا۔ اس حملے میں اخلاق جاں بحق ہو گئے اور ان کے بیٹے کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس واقعے نے پورے ملک میں مذہبی عدم برداشت اور ہجوم تشدد پر بحث کو جنم دیا۔

متاثرہ خاندان نے پہلے ہی الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے حکومت کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔ وکیلوں کا کہنا ہے کہ حساس معاملات کو بغیر قانونی کارروائی ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔

وکیلوں اور سماجی کارکنوں نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے انصاف کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ہجوم تشدد کے خلاف ایک واضح پیغام گیا ہے کہ انصاف کے عمل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور