2012 میں بہار پولیس کی جانب سے لگائے گئے جھوٹے مقدمات میں بھاکپا-مالے کے رہنما اور پارلیمانی گروپ کے سربراہ کامریڈ راجا رام سنگھ سمیت دیگر کارکنان کو آج بری کر دیا گیا۔ پارٹی نے اس فیصلے کو انصاف کی اہم فتح قرار دیا ہے۔
کامریڈ راجا رام سنگھ اس وقت پولیس کے مظالم کا شکار بنے تھے جب وہ ہسپورا بلاک کی سونہاتو پنچایت کے سربراہ چھوٹو سنگھ کشواہا کی قتل کے خلاف عوامی احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ 28 دیگر کارکنان کو جھوٹے الزامات کے تحت جیل بھیجا گیا تھا۔
بہار ہیومن رائٹس کمیشن نے 2013 میں اس معاملے میں ریاستی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کامریڈ راجا رام سنگھ کو ایک لاکھ روپے ہرجانہ دینے کا حکم دیا تھا۔ آج ان کی ضمانت نتیش-مودی ڈبل انجن حکومت کے پولیس اور انتظامی ظلم و انتقام کے خلاف ایک قانونی دھچکہ تصور کیا جا رہا ہے۔
بھاکپا-مالے نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف کامریڈ راجا رام سنگھ کے لیے انصاف کی فتح ہے بلکہ یہ محروم اور جدوجہد کرنے والے شہریوں کے خلاف چلنے والے جھوٹے مقدمات اور ظلم کے خلاف بھی ایک مضبوط پیغام ہے۔
پارٹی نے مزید کہا کہ حال ہی میں انقلابی نوجوان سبھا (آر وائی اے) کے بہار صدر کامریڈ جیتندر پاسوان کو گوپال گنج ڈسٹرکٹ کورٹ نے جھوٹے مقدمے میں مجرم قرار دیا تھا، جبکہ بھوجپور کی اگیاںو (ایس سی) سیٹ سے رکن اسمبلی کامریڈ منوج منزل کو 2024 میں اسی طرح کے جھوٹے مقدمات کے سبب اسمبلی رکنیت سے نااہل قرار دیا گیا تھا۔
بھاکپا-مالے کی مرکزی کمیٹی نے کہا کہ یہ عدالتی فتح بھارت کے لاکھوں محروم اور جدوجہد کرنے والے شہریوں کی آزادی اور انصاف کی لڑائی کو مزید مضبوط کرے گی۔